15 مارچ 2015 - 17:14
مذاکرات میں پابندیوں کا مسئلہ سب سے زیادہ اہم: ڈاکٹر ظریف

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ اگر سیاسی عزم سے کام لے تو معاہدے تک پہنجا جاسکتا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر مغرب بھی ایران کی طرح سیاسی عزم کا حامل ہوجائے تو ایران کے ایٹمی معاملے کے تعلق سے حتمی معاہدے تک پہنچنا کوئی دشوار بات نہیں ہے۔ انہوں نے آج سوئزرلینڈ کےشہر لوزان میں صحافیوں سے گفتگو میں یہ بات کہی۔ محمد جواد ظریف نے ایران اور پانچ ج‏مع ایک گروپ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں پابندیوں کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ایک ہفت روزہ عرب جریدے کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی رپورٹوں کا مقصد پروپگینڈا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سمجھوتے تک پہنچںے کا مطلب جامع معاہدے تک پہنچنا نہیں ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہاکہ اس دور گفتگو میں راہ ہائے حل کو تا حد امکان نتیجہ بخش بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا راہ ہائے حل کو نہایت باریک بینی اور تفصیل سے قلم بند کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی غرض سے اتوار کو سوئزرلینڈ کے شہر لوزان پہنچی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پانچ جمع ایک گروپ اگر سیاسی عزم سے کام لے تو معاہدے تک پہنجا جاسکتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ اگر مغرب بھی ایران کی طرح سیاسی عزم کا حامل ہوجائے تو ایران کے ایٹمی معاملے کے تعلق سے حتمی معاہدے تک پہنچنا کوئی دشوار بات نہیں ہے۔ انہوں نے آج سوئزرلینڈ کےشہر لوزان میں صحافیوں سے گفتگو میں یہ بات کہی۔ محمد جواد ظریف نے ایران اور پانچ ج‏مع ایک گروپ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں پابندیوں کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ایک ہفت روزہ عرب جریدے کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی رپورٹوں کا مقصد پروپگینڈا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سمجھوتے تک پہنچںے کا مطلب جامع معاہدے تک پہنچنا نہیں ہے۔ محمد جواد ظریف نے کہاکہ اس دور گفتگو میں راہ ہائے حل کو تا حد امکان نتیجہ بخش بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا راہ ہائے حل کو نہایت باریک بینی اور تفصیل سے قلم بند کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ ایران کی مذاکراتی ٹیم پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کی غرض سے اتوار کو سوئزرلینڈ کے شہر لوزان پہنچی ہے۔