14 مارچ 2015 - 19:54
ایران اور روس اپنے ایٹمی تعاون کا جائزہ لے رہے ہیں

ایران کے ایٹمی ادارے میں قانون اور پارلیمانی امور کے سربراہ ماسکو کے دورے پر ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے ترجمان اور قانون اور پارلیمانی امور کے شعبے کے سربراہ بہروز کمالوندی نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران روس ایٹم کمپنی کے سربراہ سرگئی کرینکو اور اس کمپنی میں عالمی امور کے شعبے کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کی۔ 

انہوں نے روسی حکام سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے ایٹمی تعاون میں موجود مسائل کا جائزہ لیا۔ بہروز کمالوندی نے روس کے دورے سے قبل کہا تھا کہ ایران، بوشہر کے علاقے میں دو ایٹمی بجلی گھر بنانے کے سلسلے میں روس کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لے رہا ہے۔

بوشہر ایران کے جنوب میں واقع ہے۔ واضح رہے اسلامی جمہوریہ ایران اور روس نے گزشتہ برس دو نئے ایٹمی بجلی گھر بنانے کا معاہدہ کیا ہے۔ ان میں ہر ایک بجلی گھر کم از کم ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا اور اسکے ساتھ ساتھ سمندر کے کھارے پانی کو میٹھا بھی بنائے گا۔ اس معاہدے کی اساس پر روس نے بوشہر میں نئے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے لئے جنوری سے مختلف متعلقہ شعبوں میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ بوشہر میں دوسرا ایٹمی بجلی گھر آٹھ برس میں مکمل ہوگا اور تیسرے ایٹمی بجلی گھر پر اسکے دو برس بعد کام شروع کیا جائے گا- اسلامی جمہوریہ ایران نے پرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے صنعت و سائنس میں استفادہ کرنے کےلئے دو نئے ایٹمی بجلی گھر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

ایران اور روس کے درمیان ایٹمی تعاون میں ایسے حالات میں توسیع آرہی ہے کہ ایران ایٹمی بجلی گھر بنانے کے سلسلے میں یورپی اور ایشیائی ممالک کی پیش کش کا جائزہ لے رہا ہے۔ مجلس شورائے اسلامی نے حکومت کو ایٹمی بجلی گھروں سے بیس ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کا پابند قرار دیا ہے۔

ایٹمی بجلی گھر بنانے کے سلسلے میں ایران اور روس کے تعاون میں توسیع ایرانی قوم اور حکومت کی خواہش ہے۔ ان ایٹمی بجلی گھروں کے لئے ایندھن کی ضروریات ایرانی ماہرین کے ذریعے پوری کی جائیں گی۔
یاد رہے ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مذاکرات میں یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کرسکتا ہے۔ یاد رہے آئندہ تیس برسوں میں دنیا کی آبادی میں دو ارب افراد کا اضافہ ہوجائے گا اور ان کے لئے انرجی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کی ضرورت کو پورا کرنے نیز موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے، ایٹمی انرجی کی ضرورت ہوگی جو ماحولیات کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔

اس وقت یہ دیکھا جارہا ہے کہ تمام ممالک منجملہ ایران کے ہمسایہ ممالک ایٹمی انرجی سے حاصل شدہ بجلی سے استفادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی ایٹمی ٹکنالوجی کے مختلف شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اس وقت ایران میں طب کے مختلف شعبوں، زراعت، اور صنعت میں پرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔

.......

/169