اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے وزیر دفاع خالدالعبیدی نے جمعے کی رات اپنے بیان میں کہا کہ عراق میں داعش دہشت گردوں کے ایک اہم مرکز یعنی تکریت شہر کے تمام راستوں پر عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کا کنٹرول ہوگیا ہے۔ لیکن اس شہر کے راستوں میں دہشت گردوں کے ذریعے جگہ جگہ بم نصب کئے جانے کے سبب عراقی فوج احتیاط سے آگے بڑھ رہی ہے۔ شمالی عراق میں صوبہ صلاح الدین کو داعش کے قبضے سے آزاد کرانےکی کاروائی میں تقریبا تیس ہزار فوجی اور عوامی رضاکارشریک ہیں۔ یہ کاروائی گذشتہ دوہفتے سے جاری ہے اور اب تک اس صوبے کے زیادہ تر علاقے عراقی فوج کے کنٹرول میں آچکے ہیں۔ عراق کے مختلف علاقوں میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف عراقی فوج اور عوامی فورس کے حملوں میں داعش کی پے درپے شکست کے باعث، داعش کے سرغنوں نے اپنے ان افراد کے خلاف جو میدان جنگ چھوڑ کرفرار کررہے ہیں سخت قدم اٹھاتے ہوئےجمعے کو موصل میں اپنے ہی چارساتھیوں کے سر قلم کردیئے۔ داعش نے گذشتہ چند دنوں کے دوران اپنے متعدد افراد کو جنگ کے میدان سے فرار کرنے کے سبب گولی مار کر ہلاک کردیا۔ عراق کے ایک مقامی ذریعے نے کہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ، موصل کے شہریوں کو شہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے رہا ہے داعش کے عناصر عام شہریوں کو عراقی فوج کے حملوں کے مقابلے میں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲