اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محمد جواد ظریف نے ایرانی حکام کے نام ارسال کردہ سینتالیس امریکی سینیٹروں کے کھلے خط کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں تاکید کی کہ ایسی حالت میں کہ مذاکرات ابھی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں اور کوئی سمجھوتہ بھی، طے نہیں پایا ہے، امریکہ میں پریشر گروپ، اس حد تک تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ وہ، غیر روائتی طریقوں پر عمل کرتے ہوئے، ماضی سے کہیں زیادہ اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ وہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن عاہو کی مانند ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کے خلاف ہیں۔ ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے امریکی صدر اور حکومت کے خلاف امریکی سینیٹروں کا خط، کسی اور ملک کے رہنماؤں کے نام لکھے جانے سے متعلق امریکی سینیٹروں کے اقدام پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس خط سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے یہ سینیٹرز، نہ صرف یہ کہ بیرون ملک سے متعلق عالمی قوانین، بلکہ خارجہ پالیسی کے سلسلے میں اپنے ملک کے صدر کے اختیارات کے بارے میں آئین کی باریکیوں سے بھی بالکل واقفیت نہیں رکھتے- محمد جواد ظریف نے کہا کہ امریکہ کے ان سینیٹروں کو یہ بات جان لینا چاہیئے کہ دنیا صرف امریکہ کا نام نہیں ہے اور بین الاقوامی تعلقات، امریکہ کے اندرونی قوانین کی بنیاد پر نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں اور اسی طرح دیگر ملکوں کے عالمی فرائض کی بنیاد پر قائم کئے جاتے ہیں- ایران کے وزیرخارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ کسی بھی ملک میں حکومت کی تبدیلی، اس ملک کے بین الاقوامی معاہدے ختم ہونے کے مترادف نہیں ہوتی، تاکید کے ساتھ کہا کہ مستقبل میں امریکہ میں جو بھی حکومت ہو، وہ موجودہ حکومت کے تمام بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درامد کی پابند ہوگی اور اگر امریکہ کے آئندہ کوئی صدر، جیساکہ کے ریپبلکنز سینیٹروں کے خط سے ظاہر ہرتا ہے، ایک قلم چلاکر بین الاقوامی معاہدوں کو مسترد کردے تو اس کا یہ اقدام، عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی شمار ہوگا- محمد جواد ظریف نے آخر میں تاکید کی کہ ایران، نیک نیتی اور سیاسی عزم و ارادے کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں شامل ہوا ہے اسلئے ضروری ہے کہ مقابل فریق بھی، جوہری سمجھوتے کے حصول اور اس پر عملدرآمد کےلئے اپنی نیک نیتی اور سیاسی عزم و ارادے کا اظہار کرے- دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے، قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے نائب سربراہ منصور حقیقت پور نے ممکنہ جوہری سمجھوتے کے بارے میں امریکی سینیٹروں کے خط کو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں جاری بحران کا آئینہ دار قرار دیا ہے- انھوں نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹروں کا یہ اقدام، امریکہ کی داخلہ پالیسی میں لاچاری کا مظہر ہے، اسلئے امریکی حکومت کو چاہیئے کہ پہلے اپنے اندرونی مسائل اور اپنے اتحادیوں، اسرائیل نیز سعودی عرب کی مشکلات حل کرے اور پھر مذاکرات کے عمل میں شمولیت اختیار کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲