اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق صدر گروپ کے رہنما مقتدی صدر نے ایک تقریر کے دوران عراق میں امریکی سفیر اسٹیورٹ جونز کے نجف اشرف کے دورے اور امام علی علیہ السلام کے روضہ اقدس میں داخلے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے عراقیوں کی ناراضگی کے اظہار کے لیے دسیوں لاکھ دستخطوں پر مشتمل ایک طومار تیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ سومریہ نیوز نے اس بارے میں لکھا ہے کہ مقتدی صدر نے کہا ہے کہ نجف اشرف میں متعلقہ حکام اور حکومتی اداروں کو امریکی سفیر کے اس اقدام کی مذمت کرنی چاہیے اور اسٹیورٹ جونز کے امام علی علیہ السلام کے روضہ مبارک میں داخل ہونے پر معافی مانگنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ خود کو جہادی کہتے ہیں انھوں نے اس کی مذمت نہیں کی ہے، میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ امریکی سفیر کے اس اقدام کی مذمت میں دسیوں لاکھ دستخطوں والا ایک طومار تیار کریں۔ مقتدی صدر نے کہا کہ اس دہشت گرد شخص کا یہ سفر بہت سے پیغامات کا حامل ہے۔ مقتدری صدر نے کہا کہ امریکی سفیر اپنے اس دورے سے ایک یہ پیغام دینا چـاہتا ہے کہ امریکہ اور شیعوں کے درمیان تعلقات اچھے ہيں جوسفید جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا شیعہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ مقتدی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ سب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ امریکی سفیر اورا مریکا ہی عراقی عوام کی تمام مشکلات و مسائل، تباہی و بربادی اور عراق میں جاری دہشت گردی کا ذمہ دار ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سفیر نے بدھ کے روز اپنے نجف اشرف کے دورے میں امام علی علیہ السلام کے روضہ مبارک کا معاینہ بھی کیا۔ عراق میں امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار تین کے بعد سے یہ پہلی بار ہے جب ایک امریکی عہدیدار امام علی علیہ السلام کے روضے میں گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲