اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اطالوی وزیر خارجہ سے ملاقات میں کہا ہےکہ ملت ایران کو ایٹمی ٹکنالوجی کی نعمت سے پرامن مقاصد کے لئے استفادہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ آیت اللہ رفسنجانی نے کہا کہ ہم اپنے حقوق حاصل کرنے کی نہایت سنجیدہ کوشش کررہے ہیں اور کوئي بھی طاقت ملت ایران کے حقوق پامال نہیں کرسکتی۔
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کی پالیسی باہمی احترام اور اعتماد کی اساس پر مختلف ملکوں کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانا ہے- تشخصی مصلحت نظام کو نسل کے سربراہ نے کہا کہ مغرب اور امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کا مقصد ایران کو الگ تھلگ کرنا ہے- انہوں نے کہا کہ ہم ان پالیسیوں کو مغرب اور امریکہ کے اسٹراٹیجیک غلطیوں میں شمار کرتے ہیں کیونکہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ کررہا ہے-
آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال بزدل افراد کرتے ہیں اور یہ ایک غیر انسانی اقدام ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایران اور اسلام کی تاریخ و تہذیب ہمیں اس کام سے منع کرتی ہے اور سبق دیتی ہےکہ ہم کسی انسان کی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں- انہوں نے کہا کہ مغرب بالخصوص امریکہ کا پابندیوں پر اصرار ان کے انسانی حقوق کے دعووں کے منافی ہے- انہوں نے سوال اٹھایا کہ دشمنوں کی جھوٹی رپورٹوں کی اساس پر قوموں کے ساتھ تعاون کی راہیں کیوں بند کی جارہی ہیں؟ اطالوی وزیر خارجہ نے اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانے کے لئے تیار ہے- انہوں نے امید ظاہر کی کہ پانچ جمع ایک کے مذاکرات، عالمی سطح پر ایران کے ساتھ تعاون کا راستہ کھول دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا ثمرہ پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں برآمد ہوگا اور اس صورت میں مزید تعاون کی راہ بھی ہموار ہوجائے گي- اطالوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی حکومت ایران کے ساتھ تعلقات میں توسیع لانے کی خواہش مند ہے اور ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ ایٹمی مذاکرات سے تعاون کی راہیں کھل جائيں گی-
.......
/169