اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیرخارجہ حسین امیر عبداللھیان نے جمعے کو ایک انٹرویو میں یمن کے واقعات میں غیرملکی مداخلت کی بابت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی تقسیم کے لئے اٹھایا جانے والا کوئی بھی قدم علاقے میں کسی بھی فریق کے فائدے میں نہیں ہوگا - ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ یمنی عوام اور رہنما بھی اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ متحد یمن، دوسرے صومالیہ اور لیبیا میں تبدیل ہوجائے۔ ایران کے نائـب وزیرخارجہ امیر عبداللھیان نے متحد یمن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، یمن کے قومی اتحاد،امن معاہدے پر عملدرآمد اور شراکت کی جو خلیج فارس تعاون کونسل کے منصوبے کی تکمیل ہے، حمایت کرتا ہے ۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یمن میں رونما ہونے والی تازہ ترین صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو فریق یمن میں داخلی جنگ مسلط کرنے کے درپے ہیں وہ اسٹریٹیجک غلطی کا شکار نہ ہوں ۔ واضح رہے کہ یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی نے دارالحکومت صنعاء میں کئی روز تک جاری لڑائی کے بعد جنوری دوہزار پندرہ کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور پھر چند روزبعد یمن کے جنوبی شہر عدن فرار کرگئے۔ یمن میں سیاسی بحران کے جاری رہنے اور اقتدار میں خلاء واقع ہونے کا ایک اہم سبب یہ ہے کہ اس ملک کے مستعفی صدر، یمن کو چھ حصوں میں تقسیم کرنے پر زور دے رہے ہیں اوریہ وہ منصوبہ ہے جو خلیج فارس کے بعض عرب ممالک اور ان میں سرفہرست سعودی عرب کی جانب سے مسلط کیا گيا ہے۔ یمن کی عوامی تحریک انصار اللہ کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کے بعد، یمن میں سیاسی اختلافات زور پکڑ گئے ہيں۔ تحریک انصاراللہ، یمن کی اسلامی عوامی تحریک ہے جس نے اسلامی بیداری کی تحریک کی راہ میں قدم اٹھایا ہے اور اس کا مقصد، یمن کے معاشرے سے ظلم و استبداد اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے ۔
.......
/169