اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اخبار الساعہ کی ویب سائٹ کےحوالے سے خبردی ہے کہ شاہ عبداللہ کی موت کے بعد اپنے عہدوں سے برطرف کۓ جانے والے آل سعود کے دو انتہائي طاقتور افراد بندر بن سلطان اور خالد التویچری کو سعودی عرب میں جبری رہائش اختیارکرنے پر مجبور کردیا گیاہے۔
واضح رہے کہ بندر بن سلطان نے شام کےبحران کے عروج کے زمانے میں سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کےسربراہ کی حیثیت سے کام کیا اور شام سے متعلق امور بندر بن سلطان کے سپرد کر دیۓ گئے تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر سے دہشتگردوں کو شام روانہ کیا گیا۔ خالد التویجری کو بھی برسہا برس تک سعودی عرب میں طاقتورترین فرد کےطور پر پہچانا جاتا رہا ہے۔
وہ کئي برس تک شاہی دفتر کے سربراہ اور شاہی گارڈ کے نگران رہ چکے ہیں ۔ سعودی عرب میں یہ دونوں عہدے بہت اہم سمجھےجاتےہیں۔ شاہ عبداللہ کی بیماری کے زمانےمیں ملک کےاموربھی عملی طورپر خالد التویجوی کےہاتھ میں آگۓ تھے۔
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے آل سعود خاندان کے ان دونوں افراد کی رہائي کے لۓ خفیہ طور کوششوں کا آغاز کردیا ہےلیکن ابھی تک اس کی کوششیں نتیجہ خيز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔
.......
/169