31 جنوری 2015 - 13:00
سانحہ شکارپور، 42 شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

جامع مسجد و امام بارگاہ کربلائے معلیٰ میں خودکش حملے کے نتیجے میں شہید ہونیوالے افراد کی اجتماعی نماز جنازہ بزرگ عالم دین مولانا سید ارشاد نقوی کی امامت میں شکارپور کے مرکزی مقام گھنٹہ گھر چوک پر ادا کی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سانحہ شکارپور میں شہید ہونے والے 42 افراد کی اجتماعی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شکارپور کے علاقے لکھی در میں واقع جامع مسجد و امام بارگاہ کربلائے معلیٰ میں خودکش حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے 42 افراد کی ميتيں شکارپور کے مرکزی مقام گھنٹہ گھر چوک لائی گئيں، جہاں خیرپور سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین مولانا سید ارشاد نقوی کی امامت میں اجتماعی نماز جنازہ ادا کی گئی، نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، لواحقین غم سے نڈھال اپنے پیاروں کی یاد میں روتے رہے اور سینہ کوبی بھی کرتے رہے۔ جس کے بعد شہداء کے لواحقین کاندھوں پر زندگی بھر کے غم کا بوجھ اٹھائے جنازہ گاہ پہنچے۔ اجتماعی نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

اجتماعی نمازِ جنازہ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی، سندھ کے صدر علامہ مختار امامی، شیعہ علماء کونسل سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ ناظر عباس تقوی سمیت مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماء اور علماء کرام بھی شریک ہوئے، اس موقع پر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں دہشتگردوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ سانحہ شکارپور میں شہید ہونیوالے ایک ہی خاندان کے دو افراد ڈاکٹر جاوید شاہ اور علی رضا شاہ کی نماز جنازہ اسٹیشن روڈ پر ادا کر دی گئی، نمازِ جنازہ میں رشتہ داروں سمیت اہل علاقہ کی بڑی تعداد شریک تھی۔ نمازہ جنازہ کی ادائیگی کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کیا، احتجاجی مظاہرین نے سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی اور قاتلوں کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز شکارپور کے علاقے لکھی در میں جامع مسجد و امام بارگاہ کربلائے معلیٰ میں نماز جمعہ کے دوران دھماکے سے اکسٹھ افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

.......

/169