اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کے خلاف کی جانے والی اس کاروائی کو قنیطرہ میں اسرائیلی فوج کے ہوائي حملے کا جواب قرار دیا جارہا ہے۔ الحدث نے اس حملے کو ایک بڑے حملے سے تعبیر کیا ہے۔ اس حملے میں سترہ صہیونی فوجی ہلاک اور نو زخمی ہیں جبکہ ایک فوجی کو حزب اللہ کے جوانوں نے قیدی بنالیا ہے۔
بدہ کے روز مقبوضہ شبعا فارمز میں اسرائیلی فوج کی گشتی گاڑی پر حزب اللہ لبنان کے جوانوں کی کاروائی میں کم سے کم پندرہ اسرائیلی فوجی ہلاک اور ان کی بڑی تعداد زخمی ہوگئی ہے۔ صیہونی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ لبنان کی سرحدی پٹی کے قریب واقع دیہات الغجر میں بھی اسرائیلی فوج کی بکتر بندگاڑی پر میزائل داغےگئے ہيں۔ صیہونی حکومت کے ٹی وی نے رپورٹ دی ہے کہ مقبوضہ علاقوں پر بھی لبنان سے کئی راکٹ فائر کئے گئے ہيں۔ المنار ٹی وی نے اعلان کیا ہے کہ اس واقعے کے بعد شبعا فارمز پر بڑی تعداد میں صیہونی فوجی تعینات کردیئے گئے ہيں۔ صیہونی حکومت نے شمالی مقبوضہ علاقوں کو ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دے دیا ہے اور کریات شمعونہ سے شمالی اور مغربی مقبوضہ فلسطین کی طرف جانے والی اصلی سڑکوں کو بھی بندکردیا ہے۔ لبنان کے ایل بی سی ٹی وی نے بھی رپورٹ دی ہے کہ صیہونی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف بنی گانتس نے اس واقعے کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دس روز قبل جنوبی شام میں حزب اللہ کی گشتی گاڑی پر اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد حزب اللہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ بہت جلد اس جارحیت کا جواب دے گی۔ واضح رہے کہ صیہونی فوج نے اٹھارہ جنوری دوہزار پندرہ کو جنوبی شام کے قنیطرہ علاقے میں ہیلی کاپٹر سے حملہ کرکے عماد مغنیہ کے بیٹے جہاد مغنیہ سمیت حزب اللہ کے چھ مجاہدین کو شہید کردیا تھا۔
.......
/169