اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے منگل کے روز ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کے اجلاس میں پیرس کے حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران، آزادی بیان کے نام پر کسی بھی دین کی توہین۔اس کے خلاف غلط الفاظ کے استعمال اور اسی طرح کسی مذہب کے پیروکاروں کو اکسائے جانے اور مذہب کے دفاع کے بہانے کسی بھی قسم کے تشدد و قتل نیز انتہا پسندی کی مذمت کرتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ بعض لوگ، خود پسندی اور قتل و تشدد کا مظاہرہ کریں اسلئے کہ یہ اقدام ، اسلام و مسلمین کی شان کے خلاف ہے اور دین اسلام سے بھی کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پیرس کے واقعات کی ذمہ داری ایک دہشتگرد تنظیم نے قبول کی ہے، ایران اس قسم کے اقدامات کی مذمت کرتا ہےاور انھیں اسلام و مسلمین کے اقدار کے منافی سمجھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران، قتل و تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف ہے اور تمام علماء نے اس قسم کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بعض ممالک، دہشتگردی کی حمایت اور دہشتگردوں کی مدد کررہے ہیں۔
انھوں نے دین اسلام اور ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کو بھی ایک شرمناک عمل قرار دیا اور کہا کہ ممکن ہے کہ یہ عمل آزادی بیان کے تناظر میں انجام دیا گیا ہو مگر اس سے تمام مسلمانوں کو جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ رسول اکرم(ص) صرف مسلمانوں سے ہی متعلق نہیں ہیں بلکہ تمام مفکرین و دانشور آپ(ص) کا احترام کرتے ہیں۔ ایران کے صدر نے کہا کہ آزادی دین کے دعویدار ملکوں میں آزادی بیان کے نام پر کسی دین کی توہین نہ صرف المیہ بلکہ قابل مذمت اقدام ہے۔
.......
/169