اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق شام میں تکفیری دہشتگردوں کے خلاف فوج اور عوامی رضاکار فورس کا ملک گیر آپریشن کامیابی کے ساتھ جاری ہے - اسی کے ساتھ شام کے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد نے اعلان کیا ہے کہ قوم کے اتحادیک جہتی کےسائے میں دوہزار پندرہ دشمنوں پر مکمل کامیابی کا سال ہوگا -
شام کے جنوب مغربی علاقے قنیطرہ میں شامی فوج کے دستوں اور عوامی رضاکاروں نےاپنی ایک مشترکہ کاروائی میں داعش سے وابستہ دسیوں مسلح دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے- بتایا جاتا ہے کہ شامی فوج نے دہشت گردوں کے فرار کے راستوں کو بھی مسدود کردیا ہے –
دوسری جانب شامی فوج نے قامشیلی کے علاقے میں تکفیری عناصر کو پیچھے دھکیل دیا ہے- اس کاروائی میں بھی داعش سے وابستہ دسیوں مسلح دہشت گرد مارے گئے ہیں-
درایں اثنا شامی افواج نے دمشق کے مشرقی علاقے میں جوبرمیں داعش کی دفاعی لائن کو توڑنے کے بعد اس علاقے میں داعش کی نام نہاد شرعی عدالت اور ان کے اسلحے اور گولہ بارود کے ڈپو کے علاوہ اس علاقے میں داعش کے کمان ہیڈ کواٹر کو بھی مکمل طور سے تہس نہس کردیا ہے-
بتایا جاتا ہے کہ دمشق کے شمالی علاقے جوبرمیں داعش کا یہ انتہائی اہم اور بڑا فوجی اڈہ شمار ہوتا تھا- تکفیری دہشت گردوں پرشامی فوج کی ان حالیہ کامیابیوں کا عالمی سطح پر بھی کافی وسیع انعکاس ہوا ہے-
داعش کے دہشت گردوں پر شامی فوج کی ان مسلسل کامیابیوں کے ساتھ ہی دہشت گردوں کے زيرقبضہ علاقوں میں عوامی مظاہروں کی بھی خبریں موصول ہورہی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ داعش کے خلاف عوامی سطح پرکس حد تک نفرت پائی جاتی ہے-
داعش کے خلاف حلب میں ہونے والا مظاہرہ لوگوں کی تعداد کے حوالے سے قابل ذکر ہے-
حلب سٹی کے عوام نے ان مظاہروں کے دوران اس شہر میں داعش کے مسلح افراد کی موجودگي کی مذمت کی اور فوج کی حمایت میں نعرے لگائے - حلب کے عوام کا کہنا تھا کہ وہ انتہائي بے چینی کے ساتھ حلب میں شامی فوج کے داخلے کا انتظار کررہے ہيں-
حلب کے عوام کا یہ بھی کہنا تھا اس شہر میں امن و امان کے قیام کے لئے فوج کی موجودگي ضروری ہے- حلب کے عوامی حلقوں نے لوگوں کو بھوکا رکھنے، اشیا خوردونوش کی ذخیرہ اندوزي اور لوگوں کو حبس بےجا میں رکھنے کی پالسیوں کے پیش نظر تکفیری عناصر سے اس شہر سے فوری طور پر نکل جانے کا مطالبہ کیا ہے-
یہ ایسی حالت میں ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی جانب سے کاروائیوں کا سلسلہ ایک ایسے وقت جاری ہے کہ ، شکست خوردہ تکفیری عناصر کے درمیان آپسی جھڑپوں میں خاصی شدت آگئی ہے- اس سلسلے میں القلمون کے علاقے میں داعش اور جبھتہ النصرہ کے مسلح دہشت گردوں کے درمیان جاری لڑائی میں دونوں طرف کے دسیوں تکفیری عناصر مارے گئے ہیں-
دوسری جانب شامی فضائيہ نے بھی دونوں مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے-
۔۔۔۔۔۔۔
/169