28 دسمبر 2014 - 11:13
سعودی عرب کے دو جزیرے اسرائیل کے قبضے میں ہیں، لیکن ریاض خاموش کیوں ہے؟

گزشتہ کئی دہائیوں سے سعودی عرب کے دو جزیرے اسرائیل کے قبضے میں ہیں، لیکن سعودی حکومت اور مغربی ملک اس معاملے پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق، یہ بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ کیوں کبھی سعودی عرب نے ان جزائر پر اپنا حق نہیں جتایا اور انہیں واپس لینے کی کوشش نہیں کی!

سنہ 2002 میں سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ نے عرب یونین کے اجلاس میں عرب-اسرائیل تنازع کو ختم کرنے کے لئے ایک تجویز پیش کی تھی، لیکن اس میں بھی تیران اور سنافير جزائر کے مسئلے کو نہیں اٹھایا گیا.

1967 تک مذکورہ جزائر پر سعودی عرب کا حق تھا، لیکن سعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل نے چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے جہازوں کو ايلات اسٹیشن تک پہنچنے سے روکنے کے لئے انہیں مصر کے کنٹرول میں دے دیا، اس وقت اسرائیل نے ان جزائر پر قبضہ کر لیا۔

تیران اور سنافير بالترتیب 80 اور 33 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں کہ جو سعودی عرب کے مشرق میں العقبہ خلیج میں واقع ہیں.

جنگ کے بعد 1978 میں جب مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے تو اس میں ان جزائر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ مصر کا کہنا تھا کہ یہ جزائر سعودی عرب سے متعلق ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد سے کبھی ریاض نے ان جزائر کا ذکر تک نہیں کیا.

.......

/169