18 دسمبر 2014 - 11:14
یورپی یونین کے تاریخی فیصلے کی امریکا نے مخالفت کر دی، حماس نے خیر مقدم کیا

امریکا نے فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے خارج کئے جانے کی مخالفت کی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے یورپ کی ایک عدالت کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کو فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف عائد پابندیوں کو منسوخ نہیں کرنا چاہئے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس کے سلسلے میں واشنگٹن کے موقف ميں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور واشنگٹن ، حماس کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے نکالے جانے کے یورپی یونین کے فیصلے کا جائزہ لے رہا ہے۔

دوسری جانب فلسطین حماس نے یورپی یونین کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل نے یورپ کی جنرل کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ يورپ نے ایسا کر کے اپنی پہلی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے بدھ کو کہا کہ حماس کو بلیک لسٹ کرنے کی یورپی یونین کی کارروائی نہ صرف یہ کہ حقیقت پر مبنی نہیں تھی بلکہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی تھی۔

خالد مشعل نے یورپی ممالک سے یورپی عدالت کے فیصلے پر عمل در آمد کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اسی کے ساتھ ملت فلسطین کے مطالبات کا احترام کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ یورپ کی ایک عدالت نے بدھ کو حکم دیا تھا کہ حماس کے نام کو یورپی یونین کی دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔ یورپی یونین کی جنرل کورٹ نے بدھ کے روز سنائے گئے فیصلے میں کہا ہے کہ یورپی یونین نے نامناسب طور پر حماس کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا۔

جنرل کورٹ کے مطابق میڈیا اور انٹرنیٹ سے ملنے والی معلومات کی وجہ سے حماس کا نام دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یورپی یونین کی جانب سے 2001ء میں حماس سمیت 12 دیگر گروپوں اور 29 افراد کے نام بھی دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کیے گئے تھے۔

.......

/169