11 دسمبر 2014 - 22:58
کربلائے معلیٰ: زائرین کی آمد کا سلسلہ بدستور جاری + تصویر

کربلائے معلی میں اب تک کروڑوں افراد اربعین حسینی کی مناسبت سے آچکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق کربلائے معلی میں اب تک کروڑوں افراد اربعین حسینی کی مناسبت سے آچکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دسیوں لاکھ افراد پیدل زیارت حضرت سید الشہدا علیہ السلام کے لئے کربلائے معلی کی طرف رواں دواں ہیں۔ تیرہ دسمبر مطابق بیس صفر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے ساتھ کربلا میں شہید ہونے والے اھل بیت و انصار کا چہلم ہے۔ کربلائے معلی میں ساری دنیا سے آنے والے کروڑوں زائرین کی مجمع بتاتا ہے کہ انسانیت صدائے حسین ابن علی پر لبیک کھ رہی ہے۔ قابل ذکرہے نجف اشرف اور دیگر شہروں سے پیادہ آنے والے زائرین کے لئے راستوں میں ہرطرح کی سہولتوں کا انتظام کیا گيا۔ راستوں میں لگے کیمپوں میں زائرین کے لئے کھانے پینے، طبی سہولتوں، سونے اور آرام کرنے کا بھرپور انتظام ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے شہر میں ان کے زائرین کے لئے بڑے بڑے کیمپ لگائے گئے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران کی بلدیہ نے شہر کربلا کی صفائي ستھرائي، زائرین کی رہنمائي اور انہیں طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے اور یہ کام کئي دنوں سے جاری ہے۔ اکثر زائرین کا پیدل سفر نجف اشرف سے شروع ہوتا ہے جو اس مقدس شہر میں مولائے کائنات حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی زیارت سے فیض یاب ہوکر کربلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران سے جو ہمیشہ کی طرح اربعین کے دنوں میں بھی عشق حسینی کا مرقع بنا ہوا ہے لوگ لاکھوں کی تعداد میں کربلا کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ ایران کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قریے سے کاروان عشق حسینی سے سرشار کربلا کا عزم کررہے ہیں۔ ان کاروانوں میں پیر وجوان اور زن و مرد کی کوئي تمیز نہیں ہے بلکہ ہرفرد کربلا جا کر نواسہ رسول کے غم میں آنسو بہانے کا خواہشمند ہے۔ اربعین حسینی کے موقع پر کربلا کی طرف کروڑوں افراد کا جانا کسی قوم یا نسل یا ملک سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں حق و حقیقت کے پرستار شامل ہیں اور شیعیان اھل بیت کے اتحاد کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس مجمع میں جو چیز سب سے زیادہ عیان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت ہے کیونکہ خدا نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ آج دنیا عشق حسین پر فخر کرتی ہے اور ان کے دشمنوں پر لعنت بھیجتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے عراق کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحدیں کھول دی ہیں اور لاکھوں لوگ ان سرحدوں سے سردار عشق کے روضہ کی طرف جار ہے ہیں۔ ایسے عالم میں جبکہ تکفیری وہابی دہشتگردوں سے عراق کو خطرے لاحق ہیں کروڑوں عاشقوں کا کربلا کی طرف جانا یہ ظاہر کرتا ہےکہ ظلم و جور کبھی بھی حق کے متوالوں کو حق پرستی سے نہیں روک سکا ہے۔ آج نواسہ رسول حسین کے نام پر ساری دنیا سے کروڑوں لوگوں کا جمع ہونا ان کے حق ہونے کی سب سےبڑی دلیل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے مومنین کے دلوں میں حسین سے محبت کی ایک حرارت ہے جو کبھی بھی سرد نہیں پڑسکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169