3 دسمبر 2014 - 17:00
مصر، حسنی مبارک کو الزامات سے بری کیے جانے کے خلاف اپیل دائر

مصر کی ایک عدالت کی جانب سے سابق مطلق العنان حکمراں حسنی مبارک اور ان کے ساتھیوں کو سینکڑوں مظاہرین کے قتل اور بدعنوانی کے الزامات سے بری کیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی انتشار نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی ایک عدالت کی جانب سے سابق مطلق العنان حکمراں حسنی مبارک اور ان کے ساتھیوں کو سینکڑوں مظاہرین کے قتل اور بدعنوانی کے الزامات سے بری کیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی انتشار نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کے بعد جہاں احجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے وہیں مختلف تنطیموں او سیاسی جماعتوں نے اس فیصلے کو سیاسی دباؤ میں دیا گیا فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

در ایں اثنا، مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے حسنی مبارک، ان کے وزیر داخلہ اور چھ معاونین کی مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں بریت سے متعلق عدالتی حکم کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کر دی ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر ہشام برکات نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے جائزے کے بعد اس میں قانونی بے ضابطگیوں کا پتا چلا ہے، اس لیے اس کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے۔

اب مصر کی اپیل کورٹ پراسیکیوٹر کی قاہرہ عدالت کے حکم پر نظرثانی کی اس درخواست کو قبول یا رد کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

خیال رہے حسنی مبارک کی بریت کا فیصلہ ایسی صورت میں سامنے آیا ہے کہ جب 2012ء میں مصر کی ایک خصوصی عدالت نے مبارک کو سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکتوں کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

.....

/169