25 نومبر 2014 - 13:14
سعودی عرب میں شیعہ عزاداروں پر حملے کے چار کلیدی ملزم گرفتار

سعودی پولیس نے رواں ماہ کے اوائل میں شیعہ مسلمانوں پر حملے میں ملوث چار مشتبہ کلیدی ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سعودی پولیس نے رواں ماہ کے اوائل میں شیعہ مسلمانوں پر حملے میں ملوث چار مشتبہ کلیدی ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔

سعودی سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا حکم تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے صادر کیا تھا۔ 

تین نومبر کو سعودی عرب کے مشرقی شہر الاحساء میں امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں پر فائرنگ کے واقعے میں کم از کم سات شیعہ شہید ہو گئے تھے۔

سعودی عرب کہ جو شام اور عراق کی حکومتوں کے خلاف تکفیری دہشت گردوں کا سب سے بڑا حامی سمجھا جاتا ہے اب خود ہی تکفیری شدت پسندی سے متاثر ہے۔

پیر کو سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان چاروں مشتبہ افراد کی شناخت عبدالله بن سعيد آل سرحان، خالد بن زويد العنزی، مروان بن إبراهيم الظفر اور طارق بن مساعد الميمونی کے نام سے ہوئی ہے۔

ان میں سے تین افراد کو پہلے بھی گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس گروپ کے لیڈر نے الاحساء میں اہل تشیع کے ایک اجتماع پر حملے کے لیے بیرون ملک سے ہدایات وصول کی تھیں۔

ترجمان کے بہ قول سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے اب تک داعش سے تعلق کے الزام میں ستتر مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے سینتالیس افراد کو پہلے بھی پکڑا گیا تھا لیکن انھیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

.......

/169