اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حريت نامي اخبار اپنے منگل کے شمارے ميں ترکي کے ايک سينئيرسيکورٹي اہلکار کے حوالے سے لکھتا ہے کہ شمالي دمشق سے تين سو دس کلو ميٹر کي فاصلے پر واقع حلب شہر سے فري سيرين آرمي کے چودہ ہزار دہشت گرد پسپائي اختيار کر گئے۔ اس سيکورٹي اہلکار نے سرين آرمي کے کمانڈر جمال معروف کے ترکي فرار ہونے کي تائيد کرتے ہوئے کہا کہ ترک حکومت اس وقت اس کي ميزباني اور حفاظت ميں مشغول ہے۔
اس سيکورٹي اہلکار نے جمال معروف کے فرار ہونے کي دقيق تاريخ بتانے سے پرہيزکرتے ہوئے کہا کہ يہ واقعہ گزشتہ دو ہفتے کے دوران کا ہے۔ انہوں نےاس جانب بھي اشارہ نہيں کيا کہ جمال معروف ترکي ميں کس مقام پر ہے۔ واضح رہے کہ حلب سے فري سيرين آرمي کے دہشت گردوں کي پسپائي کي وجہ سے ان کے کنٹرول سے باب الحوار نامي گزرگاہ بھي نکل گئي
۔ يہ صورت حال ايس حالت ميں پيدا ہوئي ہے کہ داعش اور نصرہ فرنٹ سميت دوسرے دہشت گرد گروہ کي حلب ميں فري سيرين آرمي سے جھڑپيں بدستور جاري ہيں۔ دوسري جانب شامي فوج کے سيکورٹي دستوں نے صوبہ درعا کے متعدد دہي علاقوں اور شيخ مسکين شہر ميں دہشت گردوں کے خلاف منگل کے روز بھي مہم جاري رکھي جس کے دوران نصرہ فرنٹ کے دسيوں دہشت گرد ہلاک اور ان کي درجنوں گاڑياں تباہ ہوگئيں۔ مارچ دو ہزار گيارہ سے شام ميں پر تشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاري ہے۔
اقوام متحدہ ميں انساني حقوق کے ہائي کميشنر زيد رعد زيد الحسن کا کہنا ہے کہ شام ميں جھڑپيں شروع ہونے سے اب تک دو لاکھ سے زيادہ افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔ رپورٹوں کے مطابق مغربي طاقتيں اور ان کے علاقائي اتحادي خاص طور پر قطر، سعودي عرب اور ترکي، شام ميں بشار اسد کي قانوني حکومت کے خلاف بر سر پيکار دہشت گردوں کي کھلي حمايت کر رہے ہيں۔ دوسري جانب شامي فوج نے درعا ميں دہشت گردوں کے خلاف مہم کے دوران نصرہ فرنٹ کے کمانڈر ابو درداء کو موت کے گھاٹ اتار ديا۔
العالم ٹي وي چينل نے رپورٹ دي ہے کہ عين العرب ميں شامي سيکورٹي اہلکاروں اور کرد رضاکار فورسز سے دہشت گردوں کي جھڑپيں منگل کو بھي جاري رہي اور کرد جنگجوؤں نے ان چھ عمارتوں پر قبضہ کر ليا جن پر دہشت گردوں کا قبضہ تھا۔ در ايں شامي فورسز نے درعا ميں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شديد بم باري جس کے نتيجے ميں نصرہ فرنٹ کا کمانڈر ابو درداء سميت تيئس دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس کاروائي ميں شامي فوج کو بڑي تعداد ميں ہتھيار اور گولے بارود بھي ملے ہيں۔
.......
/169