اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آئندہ ایٹمی مذاکرات کے عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہونے سے پہلے نائب وزیر خارجہ امیر حسین عبد اللہیان نے الوفاق اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمان کے فرمانروا نے اپنے قابل ستائش نظریات کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کروانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ایران اور امریکا کے وزراء خارجہ اور یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ كیتھرن ایشٹن کے مسقط میں ہونے والی آئندہ مذاکرات عمان کے فرمانروا کے اس اہم کردار کا ایک ثبوت ہے۔
ایران - مصر کے تعلقات کے بارے میں امیر حسین عبداللہیان نے کہا کہ مصر کے ساتھ ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں اور ہم نے صدر عبد الفتاح السيسي کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم مصر کو شدت پسندی اور عدم استحکام کی طرف لے جانے والے ہر قدم کی مخالفت کرتے ہیں۔
ایران - سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں امیر عبد الللہیان نے کہا کہ نیویارک میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان مثبت بات چیت ہوئی جبکہ میرے دورہ جدہ کے دوران بھی بہت اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے تاہم کچھ دن گزرنے کے بعد ہمیں سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل کا منفی بیان سننے کو ملا جو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کے بالکل بر خلاف ہے۔
نائب وزیر خارجہ امیر حسین عبد اللہیان نے کہا کہ ایران کا نظریہ ہے کہ تہران - ریاض مذاکرات اور تعاون سے علاقائی مسائل کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن اگر وزیر خارجہ سعود الفیصل سمیت سعودی حکام میڈیا میں اشتعال انگیز ماحول بنائے رکھنا چاہتے ہیں تو یہ ان کی پسند ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ ہمیں علاقے کے حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے تہران اور ریاض کے درمیان تعاون جاری رکھنا چاہئے۔
امیر عبد اللہیان نے بحرین کے ساتھ ایران کے تعلقات کے بارے میں کہا کہ سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بحرین میں حکومت اور مخالفین کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں اور ہم نے بحرین کی حکومت سے کہا ہے کہ پرتشدد کارروائیوں سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس سے پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہوگا۔
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادي کے حالیہ دورہ ایران کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں باہمی دلچسپی کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔
.......
/169