اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محرم الحرام کے مہینے اور سید الشہداء حضرت ابا عبد اللہ الحسین (ع) کی عزاداری کے ایام کی آمد کے موقع پر اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جانب سے پاکستان کے شہر اسلام آباد میں حوزہ علمیہ مدینۃ العلم میں مبلغین کے لیے تین روزہ تعلیمی ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا۔
یہ تربیتی کارگاہ جو ۲۵، ۲۶ اور ۲۷ ذی الحجہ کو منعقد ہوئی میں مختلف موضوعات جیسے اصول عقائد، امامت، اتحاد مسلمین، صبر و تحمل، الفت و محبت وغیرہ بیان کئے گئے اس ورک شاپ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ اور کشمیر سے طلاب اور طالبات نے شرکت کی۔
ورک شاپ میں بیس سے زیادہ علماء اور اساتید نے درس دئے جن میں پاکستان میں مدرسہ جامعۃ المصطفیٰ(ع) العالمیہ کے پرنسیپل مولانا انیس الحسن خان، مولانا لیاقت عوان، مولانا نظیر ناصری، جامعۃ المنتظر اور مجمع جہانی پاکستان کے سربراہ قاضی سید نیاز حسین نقوی، پروفیسر غلام تقی بنگش، مولانا سید حسنین گردیزی، مجلس وحدت مسلمین کے رکن مولانا علی محمد شاہ اور اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر نجف لک زایی شامل تھے۔
ورک شاپ میں تدریس کئے گئے موضوعات پاکستان میں مبلغین کی علمی اور فکری ضرورت کے پیش نظر اس ملک کے مجمع جہانی اہلبیت(ع) کے ذریعے معین کئے گئے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے شعبہ ثقافتی امور کے سربراہ ڈاکٹر لک زایی نے اس ورک شاپ میں ائمہ معصومین (ع) کی احادیث کی روشنی میں ایمان اور عقل و جہل کے سلسلے میں گفتگو کی۔
ڈاکٹر لک زائی نے اس آیت کریمہ "الَّذِينَ آمَنُواْ وَلَم يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَـئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُون" کی تلاوت کرتے ہوئے ایمان اور ظلم سے دوری کو امن و امان کے لیے لازمی شرط قرار دیا اور کہا: اگر انسان ایمان رکھتا ہو اور عدل و انصاف سے کام لے تو یقینا بہشت میں جائے گا۔
انہوں نے ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے خدا پر ایمان، قیامت پر ایمان، انبیائے الہی پر ایمان، کتاب الہی پر ایمان، ائمہ معصومین پر ایمان، آیات الہی پر ایمان اور غیب پر ایمان کو ایمان کے مصادیق قرار دیا اور کہا: ایمان کا سب سے کامل مصداق حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (عج) پر ایمان رکھنا ہے۔
ڈاکٹر لک زائی نے نیز لاہور، کراچی، اسلام آباد اور کشمیر سے آئی ہوئیں مبلغ خواتین کے لیے عقل اور ایمان کی بنیاد پر اسلامی معاشرے کی تربیت کو ضروری قرار دیا اور کہا قرآن کریم "ويزكيهم و يعلمهم الكتاب و الحكمة" کی بنیاد پر انسان کی تربیت عقل و ایمان کے ذریعے کرنا چاہتا ہے چونکہ انبیاء اسی لیے آئے تاکہ لوگ اپنے نفوس کا تزکیہ کریں، اپنے افکار کو پاک کریں اور اس کے بعد اپنے افکار کی بنا پر عمل کو درست کریں۔
انہوں نے وحدت و سالمیت کو عاقل و مومن انسانوں کی تربیت کا حصہ جانتے ہوئے کہا: مبلغین کی گردن پر بڑی ذمہ داری ہے اگر وہ اسے بخوبی انجام دیں تو سماج کی اصلاح ہو جائے۔


ورک شاپ کے آخر میں حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر لک زائی نے حاضرین کے سوالات کے جوابات دئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲