اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایرک شلز نے اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے موضوع پر کانگریس کو نظر انداز کرنا چاہتی ہے۔
شلز نے کہا کہ یہ خیال مضحکہ خیز ہے کہ ہم کانگریس سے مشورے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دی ہل اخبار نے ایرک شلز کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ ایسا موضوع ہے جس پر ہم کانگریس سے سنجیدہ بات چیت کرتے ہیں۔ ہم کانگریس سے طویل مشورہ کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اس سے پہلے ایک سینئر امریکی اہلکار نے نیو یارک ٹائمز سے کہا تھا کہ صدر اوباما ایران کے ساتھ کسی بھی جوہری معاہدے پر کانگریس میں ووٹنگ سے بچنے کے لئے اپنے اختیار کا پورا استعمال کریں گے۔ اس اہلکار نے نام ظاہر نہ کئے جانے کی شرط پر کہا کہ ہم کسی بھی جامع معاہدے میں کانگریس سے قانون نہیں چاہیں گے۔
واضح رہے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک، ایران کے جوہری معاہدے پر باہمی اختلافات کو ختم کرنے کے لئے 24 نومبر کی آخری تاریخ سے پہلے ایک جامع معاہدے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔
.......
/169