اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے آرمی چیف کو گارنٹر بننے کی درخواست کی تھی لیکن نواز شریف اگلے ہی دن اپنے بیان سے مُکر گئے۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ہم کبھی بھی اپنے موقف سے نہیں ہٹے اور نہ ہٹیں گےاور نہ ہی کبھی مذاکرات سے انکار کیا بلکہ ہمیشہ استقبال کیا ہے۔ مذاکرات کو حکومت نے گنوا دیا ہم نے شفاف تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کا فارمولہ دیا تھا لیکن حکومت جے آئی ٹی میں اپنے لوگوں کا تعین چاہتی تھی۔ ہمارا فیصلہ آج بھی وہی قائم ہے۔ ہم چودہ شہداء کا خون نہیں بیچنا چاہتے۔ شفاف تحقیقات تک وزیر اعلی پنجاب مستعفی ہوں ۔ شفاف تحقیقات کی سو فیصد ضمانت ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کا مزید کہنا تھا کہ اب قوم کو ظالم اور مظلوم کا فرق سمجھ میں آ گیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا اب دھرنے کو ہر شہر میں دو، دو دن لےجاؤں گا۔ انہوں نے کہا 23 اکتوبر کو ایبٹ آباد میں دھرنا ہو گا پھر محرم الحرام کا وقفہ ہو گا اور اس کے بعد دھرنا 23 نومبر کو بھکر، 14 دسمبر کو سیالکوٹ ،25 دسمبر کو مزار قائد کراچی پر ہو گا۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا دھرنے کو 70 دن ہو چکے ہیں ، 700 دن بھی بیٹھا جا سکتا ہے۔ دھرنا جلسوں میں تبدیل ہو گیا ہے اور جگہ جگہ جلسے ہوں گے۔ انقلاب کو مکمل کرنے کے لئے طاہر القادری کا ساتھ دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲