اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پٹرو پوروشنکو نے یوکرین کی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ڈونٹسک اور لوہانسک صوبوں کے علاقے ڈونباس کے مسائل، فوجی طریقوں سے حل نہیں کیئے جاسکتے اور حتمی طور پر ان علاقوں کو اعتماد میں لئے جانے کی ضرورت ہے۔ یوکرین کے صدر نے اسی طرح کہا کہ ڈونباس کا علاقہ، یوکرین سے جدا ہوکر، اپنی خود مختاری کا اعلان نہیں کرسکتا۔ پوروشنکو نے کہا کہ میرا یہ عقیدہ اس علاقے پر یوکرین کے کنٹرول کے لئے یورپی یونین کی طرف جھکاؤ کی بناپر نہیں ہے بلکہ یوکرین سے جدا ہونے اور اپنی خود مختاری جاری رکھنے لئے ڈونباس علاقے کے پاس ضروری ذرائع موجود نہیں ہیں۔ ادھر روس اور یوکرین کے سربراہوں کے درمیان یورپی یونین کے رہنماؤں کی موجودگی میں مذاکرات ہوئے لیکن یوکرین کے بحران کے حل میں کوئی پیشرفت حاصل نہیں ہوسکی۔ دونوں سربراہوں کا کہنا تھا کہ گیس کے تنازع پر سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ یوکرین کے صدر نے کہا کہ ہم نے معاہدے کے بنیادی اصولوں پر اتفاق کر لیا ہے لیکن ہم کسی ٹھوس حل پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ پوتين نے کہا کہ کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن ابھی بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ یوکرین گیس کی بقایا قیمت جو کہ تقریبا چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر ہے، کس طرح ادا کرے گا۔
.......
/169