12 اکتوبر 2014 - 12:37
سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائيل داعش دہشت گردوں کے اصلی حامی ہیں

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں نمائندہ ولی فقیہ کے اعلی مشیر میجر جنرل ید اللہ جوانی نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائيل داعش دہشت گردوں کے آج بھی اصلی حامی ہیں اور داعش کی طاقت و قدرت کے پیچھے مذکورہ ممالک کی طاقت و قدرت نمایاں ہے اور داعش، سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائیل کی طاقت کا اصلی مظہر ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں نمائندہ ولی فقیہ کے اعلی مشیرمیجر جنرل یداللہ جوانی نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائيل داعش دہشت گردوں کے آج بھی اصلی حامی ہیں اور داعش کی طاقت و قدرت کے پیچھے مذکورہ ممالک کی طاقت و قدرت نمایاں ہے اور داعش سعودی عرب، قطر، ترکی اور اسرائیل کی طاقت کا اصلی مظہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ داعش کی تشکیل کا اصلی ہدف شام میں بشار اسد کی حکومت کو گرانا تھا جس میں ان ممالک کو زبردست ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور داعش نے پھر اپنے ہی آقاؤں کو دھمکیاں دینا شروع کردیں ۔

جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ ایران اسلامی ، انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر عراقی اور شامی عوام کی حمایت کررہا ہے انھیں طبی اورغذائی اشیاء فراہم کررہا ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں فوجی مشاورت بھی دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے داعش دہشت گردوں اور دوسرے شدت پسند گروہوں کو فریب خوردہ قراردیا ہے اور ان شدت پسندوں گروہوں کے اعلی رہنماؤں کے بارے میں جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے اعلی رہنما عالمی خفیہ ایجنسیوں کے عناصر ہیں اور ان کے امریکہ، اسرئیل، سعودی عرب،قطر اور ترکی کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ شام اور عراق میں سعودی عرب، قطر، اسرائيل اور ترکی داعش دہشت گردوں کی بھر پور حمایت کررہے ہیں۔

جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ آج بعض مغربی ذرائع کو بھی معلوم ہوگیا ہے کہ اسرائیل کے سلفی وہابی تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور داعش دہشت گردوں نے اسرائیلی اشاروں پر شام میں تباہی پھیلائی ہے۔

جنرل ید اللہ جوانی نے کہا کہ جب دہشت گردوں کا نام نہاد خلیفہ ابو بکر بغدادی آشکارا اعلان کرتا ہے کہ شیعہ ہمارے دشمن ہیں اور ہمیں اسرائیل سے کوئی سروکار نہیں، تو دہشت گردوں کے رہنما کا یہ اعلان اسرائیل کی مرضی کے مطابق ہے۔لہذا ابو بکر بغدادی کے اس اعلان کے بعد صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ دہشت گردوں کے اعلی رہنماؤں کے سامراجی اور استکباری خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو غیر ملکی اور سامراجی خفیہ ایجنسیاں ان سے چاہتی ہیں۔

جنرل یداللہ جوانی نے کہا کہ داعش دہشت گردوں کا ایرانی سرحدوں کے قریب آنا ان کے لئے مہنگا ثابت ہوگا اور داعش دہشت گرد ایسی خودکشی نہیں کریں گے۔

.......

/169