اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صدر گروہ نے انکشاف کيا ہے کہ امريکا کي سرکردگي ميں داعش کے خلاف اتحاد نے ابھي تک داعش کے ايک بھي ٹھکانے کو نشانہ نہيں بنايا ہے ۔ عراقي پارليمنٹ ميں صدر جماعت سے وابستہ الاحرار دھڑے کےرکن جمعہ ديوان نے کہا ہے کہ امريکا کي سرپرستي ميں داعش کے خلاف بننے والے اتحاد کے بعد عراق کے شہروں کي سيکورٹي کي صورتحال اور زيادہ بدتر ہوگئي ہے کيونکہ يہ اتحاد نہ صرف يہ کہ داعش کے خلاف جنگ ميں سنجيدہ نہيں ہے بلکہ اس نے عراق کے بعض شہروں ميں داعش کي پيشقدمي کاراستہ بھي ہموار کيا ہے ۔
عراق کے مذکورہ ممبرپارليمنٹ نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف اتحاد نے بجائے اس کے کہ اس گروہ کے اصل ٹھکانوں اور اس کے اسلحے کے ڈپويا جنگي ساز وسامان کو نشانہ بناتا غيراہم علاقوں کو نشانہ بنارہا ہے جس کا داعش سے کوئي تعلق نہيں ہے۔ عراق ميں داعش کے بہانے ہونےوالے حملوں ميں زيادہ تر عام شہري مارے گئے ہيں ۔
يہاں پر قابل غور نکتہ يہ ہے کہ امريکي حکام مسلسل يہ کہہ رہے ہيں کہ انہوں نے داعش کے ٹھکانوں پر بمباري کي ہے ليکن عراقي پارلمينٹ ميں سيکورٹي اور دفاع کے کميشن کے رکن ماجد الغراوي کا کہنا ہے کہ داعش کے خلاف بننے والا اتحاد صرف عراق ميں اپنے اڈے بنانے کي فکر ميں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امريکا کے سابق وزيرجنگ لئون پنيٹا نے داعش کے خلاف جنگ کے مشکل اور دشوار ہونے کے بارے ميں جو بيان ديا ہے وہ امريکا کا نيا جوک ہے جس کا مقصد عراقي حکومت سے رعايتيں وصول کرنا اور عراق ميں فوجي اڈے قائم کرنا ہے , کيونکہ اگر واقعي امريکا داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے تو اس کے لئے داعش کے ٹھکانوں کا پتہ لگانا کوئي مشکل نہيں ہے ۔
عراقي پارليمنٹ کے کئي ديگر ممبران نے بھي اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ داعش ايک دہشت گرد گروہ ہے جس کو امريکا اور صہيوني حکومت نے تشکيل ديا ہے کہا کہ داعش کے خلاف امريکا کي سرپرستي ميں بننے والا نام نہاد اتحاد عراقي عوام کو دھوکہ دينے کے مترادف ہے ۔
اس درميان عراقي وزيراعظم حيدرالعبادي نے بھي کہا ہے کہ بعض ملکوں نے داعش کي حمايت کي ہے اور اس کے عناصر کو عراق ميں بھيجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ کے بہانے غير ملکي افواج کي عراق ميں آمد کي ہم مخالفت کرتے ہيں ۔ عراقي وزيراعظم نے کہا کہ عراقي فوج عوامي رضاکار فورس کے ساتھ مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کي پوري توانائي رکھتي ہے اس لئےعراق کو غير ملکي فوجوں کي ضرورت نہيں ہے ۔
يہ بيانات ايک ايسے وقت سامنے آرہےہيں جب صدر گروہ نے بھي کھل کر کہا ہے کہ اگر امريکي فوجي دوبارہ عراق ميں آتے ہيں تو ان پر حملہ کيا جائے گا ۔
مجلس اعلائے اسلامي عراق نے بھي اپنے ملک ميں غيرملکي فوجوں کي آمد کي مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقي فوج داعش کا مقابلہ کرنے کي پوري توانائي رکھتي ہے ۔
.......
/169