اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تكفيري دہشت گرد گروہ داعش نے عراق کے شمالی شہر تكريت میں ایک قدیمی مذہبی مقام کو منہدم کر دیا ہے جس میں صدر اسلام کی درجنوں شخصیات کی قبریں تھیں۔
شہر سے جان بچا کر بھاگنے والے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ مسجد الاربعین کو مکمل طور پر شہید کر دیا گیا۔
جمعرات کو تكريت کی جامع مسجد کے امام یحی العطاوی نے کہا ہاں، انہوں نے اس مقدس مقام کو تباہ کر دیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے منگل کو مسجد میں دھماکہ خیز مادہ رکھا اور بدھ کو اسے دھماکے سے اڑا دیا۔
تكفيري دہشت گرد عراق اور شام میں سنی، شیعہ اور عیسائیوں کے درجنوں مقدس مقامات منہدم کر چکے ہیں۔
دوسری جانب عراق میں تكفيري دہشت گرد گروہ داعش نے مشرق وسطی کے قدیمی ترین چرچ سمیت دو گرجا گھروں کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
العالم ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق، عراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشت گردوں نے تكريت میں واقع پہاڑ کی چوٹی پر بنے الخضراء چرچ کو مسمار کر دیا۔
حضرت عیسی کی ولادت کے تقریبا 100 سال بعد بنا یہ چرچ عراق میں عیسائیوں کا سب سے اہم اور قدیمی مذہبی مقام تھا۔
یہ چرچ دریائے دجلہ کے کنارے بنا ہوا تھا جس کی عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام نے 1994 میں تعمیر نو کرائی تھی۔
شہر تكريت جولائی سے داعش کے قبضے میں ہے جسے آزاد کرانے کے لئے عراقی فوج نے وسیع مہم شروع کر رکھی ہے۔
عراق کے سیکورٹی حکام نے اس بات کا خدشہ ظاہر کی ہے کہ تكفيري دہشت گرد علاقے میں موجود دیگر قدیمی مذہبی مقامات کو بھی منہدم کر سکتے ہیں۔
.......
/169