23 ستمبر 2014 - 10:16
ترک حکومت اور داعش کا ڈرامہ

داعش کے ہاتھوں موصل میں اغوا کئے گئے انچاس ترک باشندوں کو رہا کردیا گیا ہے ۔دہشتگردگروہ داعش نے ان افراد کو گیارہ جون کو موصل پر قبضے کے وقت اغوا کیا تھا۔ترکی کے میڈیا کے مطابق گرفتار شدگان کے رہآئی کے لئے نہ تو تاوان دیا گیا اور نہ ہی داعش کی شرائط کو قبول کیا گیا ہے ۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے کہا ہے کہ یہ افراد ترکی کے سیکوریٹی اداروں کے زریعے آذاد ہوئے ہیں۔۔قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ترکی کے یہ باشندے داعش جیسے دہشتگرد گروہ کے ہاتھوں کس طرح صحیح وسالم رہے اور وہ بغیر کسی مشکل کے کسطرح ترکی میں پہنج گئے ۔

بعض زرائح ترک باشندوں کے اغوااور انکی واپسی کو ترک حکومت اور داعش کا ڈرامہ قرار دیتے ہیں۔غیر ترکی میڈیا اور حکومت مخالف سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترک حکومت کے داعش سے تعلقات اور ترک شہریوں کے آذادی دونوں مشکوک ہیں۔ اس وقت ان حلقوں کے جانب سے یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ ترک حکومت اپنے شہریوں کے رہائی کے حوالے سے اندر کی بات بنانے سے کیوں گریز کررہی ہے ،ترکی کے ایوان صدر سے بھی جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں بھی داعش یا اسکے دہشت گرد ہونے کے بارے میں کوئی زکر موجود نہیں ہے ۔اسی طرح اغوا ہونے والے ترک باشندوں کے لئے مغوی کی جگہ گرفتار شدگان کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ۔ترک حکومت نے ان سوالات کے مختلف جواب دئے ہین اور ان کا کہنا ہے کہ مغویوں کے آذاری کے لئے ایک پیچیدہ اور پوشیدہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اور ہم گذشتہ دو ماہ سے مغویوں اور اغوا کاروں  کی نقل وحرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے اور ان تمام کوششوں کے بعد ہم اپنے شہریوں کو بخیرو عافیت ترکی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
بعض ترک حکام کا کہنا ہے کہ سیکوریٹی مسائل کی وجہ سے شاید یہ بات منظر عام پر نہ آسکے کہ ہم  نے کسطرح  اپنے افراد کو داعش سے آذاد کرایا ہے۔
بہرحال ماہرین کے مطابق ان تمام توجیہات کے باوجود داعش اور ترک جکومت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہورہا ہے۔دوسری طرف ترک حکام اور ان کے نئے وزیر خارجہ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا داعش سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں دوسروں سے زیادہ دہشتگردی کا سامنا ہے لیکن ترک حکام کے ان بیانات سے ان کے مخالفین مطمئن نہیں ہو رہے ہیں۔
ترک حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ داعش سے ایسے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں جنکا تعلق ترکی سے ثابت ہوتا ہے اسی طرع داعش کے زریعے موصل کے علاقے کا جو تیل فروخت کیا جارہا ہے اس میں ترک تاجروں کا نام سرفہرست ہے ۔ان دلائل کے بنیاد پر ترک جکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ داعش کے جوالے سے ترک حکومت کی پالیسیاں دوغلی اور منافقت پر مبنی ہیں حالانکہ داعش ایسا گروہ ہے جسکے اقدامات نے تمام مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کردیا ہے ۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ دہشتگردی کے نشانے پر ہیں اور وہ نہایت احتیاط سے داعش کے حوالے سے اقدامات انجام دے رہے ہیں اور اپنی سرحدوں کو دہشتگردوں کے نفوز سے بچانے کے لئے کوشاں ہیں لیکن ترک حکومت کے مخالفین رجب طیب اردوغان اور اسکی ٹیم کے ان دعووں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

.......

/169