14 ستمبر 2014 - 15:36
داعش کے خلاف نام نہاد جنگ اور امریکی حکام کے متضاد بیانات

امریکا نے ایسے وقت میں دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے کہ ایک دن پہلے اس ملک کے صدر باراک اوباما نے کہا کہ داعش کے خلاف حملے شام تک وسیع ہوں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگن اور وائٹ ہاؤس کے حکام کا یہ تبصرہ جمعہ کو سامنے آیا کیونکہ امریکی صدر پر یہ دباؤ تھا کہ وہ داعش سے مقابلے کے سلسلے میں اپنے نظریات کو واضح کریں۔ 

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے کہا کہ امریکا، داعش کے خلاف جنگ میں اسی طرح ہے جس طرح ہم القاعدہ کے خلاف ہیں۔
پینٹاگن کے ترجمان جان كربي نے ارنسٹ کے تبصرہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم داعش کے خلاف جنگ کی حالت میں ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت آیا جب امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایک دن پہلے کہا تھا کہ ان کے خیال میں جنگ کی اصطلاحات استعمال کرنا غلط ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم دہشت گردانہ سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اہم بین الاقوامی کوششوں میں شامل ہیں۔
کیری جمعہ کو ترکی گئے تاکہ شام میں سرگرم دہشت گرد گروہ داعش سے نمٹنے کے لئے ہمہ گیر اتحاد پرگفتگو کریں۔ جب ان سے اس اتحاد میں ایران کے شامل ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے شام میں بشار اسد کی حکومت کو ایران کی جانب سے حمایت کی وجہ اسے نامناسب قرار دیا۔ انقرہ نے شام پر حملے کے لئے اپنی ہوائی چھاؤنی کے استعمال سے انکار کر دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ شام میں بشار اسد کی عوامی حکومت کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ شام، مزاحمت کا محور ہےاور تہران ہمیشہ سے فلسطین اور مزاحمت کا حامی رہا ہے۔
.......

/169