1 ستمبر 2014 - 02:34
ملت فلسطین استقامت کو غیر مسلح کرنے کی اجازت نہیں دے گی

اسرائیل فلسطینی استقامت کو غیر مسلح کرکے مختلف مقاصد منجملہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے مقابلے میں ہرقسم کی استقامت کو ختم کرنا چاہتاہے تاکہ اپنی توسیع اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کو آسودہ خاطر ہوکر عملی جامہ پہنا سکے

اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور اسرائیل فلسطینی استقامت کو غیر مسلح کرنے کے لئے نئی سازشیں کررہے ہیں اور اس بارے میں اسرائیل غزہ کے خلاف حالیہ ہمہ گیر جنگ  کے بعد دائمی جنگ بندی کے دائرے میں مذاکرات انجام دینا چاہتاہے ۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ اور  بعض یورپی ممالک غاصب اسرائیل کی  حمایت اور فلسطین میں اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے  ماحول سازی کرنا چاہتے ہیں۔اس بارے میں بعض رپورٹوں سے پتہ چلتاہے کہ امریکہ  نے سلامتی کونسل  میں ایک مسودہ پیش کیا ہے جس میں غزہ کو ہتھیاروں سے عاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور تاکید کی گئی ہےکہ ہتھیار صرف خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سیکورٹی اہل کاروں کے پاس میں ہونا  چاہئیے  ۔
 فلسطینیوں نے امریکہ  اور اسرائیل کی  مشترکہ سازشوں کے خلاف رد عمل کا اظہار کیا ہے  اس بارے میں تحریک حماس کے ترجمان نے فلسطینی استقامت کو غیر مسلح کرنے سے متعلق کسی  بھی سازش کے بارے میں اپنی مخالفت پر تاکید کی ہے ۔تحریک حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ہفتے کی رات غزہ  میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا ہے فلسطینی استقامت کو غیر مسلح کرنے کے مقصد سے  لکھے جانے والے کسی بھی  مسودے  اور اسے سلامتی  کونسل میں پیش کئے جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس لئے  کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے منافی  ہے اور ملت فلسطین اس کی  کبھی بھی اجازت نہیں دےگی ۔
 سامی  ابو زہری  نے کہا ہے  کہ  اصل میں غاصب اسرائیل کو غیر مسلح ہونا چاہئیے نہ ملت  فلسطین کو۔ حکومت امریکہ کو اجازت نہیں دی جانی  چاہئیے  کہ وہ فلسطینی عورتوں  اور بچوں  کے قتل عام کے لئے اسرائیل کو ہتھیاروں سے مزید لیس کرے ۔بہرحال فلسطین کے حالات سے پتہ چلتاہے کہ غاصب اسرائیل غزہ کے خلاف ہمہ گیر جنگ میں اپنے اہداف منجملہ مقاومت کو  کمزور اور غیر مسلح  کرنے کے سلسلےمیں ناکام ہوگیا ہے اور اب جنگ بندی کے حالات سے غلط استفادہ کرکے  فلسطینیوں سے مراعات حاصل کرنا  چاہتاہے ۔
اسرائیل کے مقاصد سے پتہ چلتاہے کہ وہ سکون اور آرام سے بیٹھنا  نہیں چاہتا بلکہ وہ زور وزبر دستی  فلسطینی وفد  پر اپنے شرائط کو مسلط کرنے کے  درپے ہے جن کا جنگ بندی سے کوئی تعلق اور رابطہ نہیں ہے ۔
اسرائیل فلسطینی استقامت کو غیر مسلح کرکے مختلف مقاصد منجملہ اسرائیل  کی توسیع  پسندانہ پالیسیوں کے مقابلے میں ہرقسم کی استقامت کو ختم کرنا چاہتاہے  تاکہ اپنی توسیع اور تسلط پسندانہ  پالیسیوں کو آسودہ خاطر ہوکر عملی جامہ پہنا سکے ۔
دوسری طرف اسرائیل اس وقت فلسطین کی استقامت کو غیر مسلح کرنے کی بحث چھیڑ کر فلسطینی ملک کی تشکیل کے بارے میں ہونے والی بحث میں فلسطینیوں اور عالمی برادری کو یہ قبول کر وانا چاہتاہے  کہ اس ملک  کوبغیر فوج کے تشکیل پانا چاہئیے  لیکن اس بارے میں سیاسی اور فوجی نظریات سے  پتہ چلتاہے کہ عصر حاضر میں ایک ملت کو غیر مسلح کرنے کا مسئلہ عملی طورپر ناممکن ہے  اور گذشتہ پچاس  روزہ جنگ میں فلسطینی استقامت کے سامنے اسرائیل  کی ذلت آمیز شکست وناکامی  سے  اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے ۔
ایسے حالات میں فلسطینیوں کے خلاف  امریکہ اور اسرائیل کی نئی سازشوں کا کوئی فائدہ نہیں  ہوگا خاص طوپر ایسی صورت  میں  کہ فلسطینی گروہوں نے تاکید کی ہے کہ استقامت کو غیر مسلح کرنے کا مسئلہ فلسطینیوں کی ریڈ لائن ہے کیونکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایک ملت  کو اپنے دفاع کرنے کا حق ہے جسے  اس سے نہیں چھینا سکتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲