1 ستمبر 2014 - 02:24
کویت کی ایران کے ایٹمی مسئلے میں عالمی اتفاق رائے پر تاکید

کویت کی وزارت خارجہ نے خلیج فارس تعان کونسل کے اجلاس میں ایران کے ایٹمی مسئلے میں عالمی اتفاق رائے پرتاکیدکی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خلیج فارس تعاون کونسل کے نائب سربراہ اور کویت کے وزيرخارجہ شیخ صباح خالد الحمد الصباح نے اس سلسلے میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تہران اور عالمی برادری کے ساتھ یہ تعاون ایسا ہو کہ ایران بھی ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کا پابند ہو اور اس سلسلے میں سلامتی کونسل کے فیصلوں کا بھی احترام کیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس لحاظ سے تہران سے توقع ہے کہ ایٹمی تنصیبات کا تحفظ کرے اور اس کے لئے زیادہ سے زیادہ ممکنہ تدابیر اختیار کئے جانے کی ضمانت دے۔
ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں مغرب کی مشکوک ہنگامہ آرائی کے تناظر میں یہ بیان عملی لحاظ سے تجزیے کے قابل ہے لیکن تکنیکی اور سائنسی لحاظ سے یہ بیان حقیقت سے کوسوں دور ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کویت کے وزیرخارجہ کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مغرب کے مشکوک ومبہم پروپیگنڈوں سے متاثر ہیں کیونکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پوری طرح شفاف، غیرمبہم اور ایٹمی بجلی گھروں اور ایٹمی ری ایکٹر کا ایندھن فراہم کرنے کے لئے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں جو کچہ باقی رہتا ہے وہ امریکہ کی فریب کارانہ پالیسیاں اور اس کی ہاں میں ہاں ملانے والے ممالک ہیں جو ایران کے ایٹمی پروگرام کو چیلنج کرناچاہتے ہيں اورکویت کے وزیرخارجہ کا تعلق بھی اسی گروہ سے ہے جس سےپتہ چلتا ہے کہ وہ ایران سے مغرب کی زیادہ طلبی اور غیرمنطقی مطالبات اور تعاون کی حد کی شناخت نہيں کرپا رہے ہیں۔اور اس باطل مفروضے کے تحت کہ ایران ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ پورا تعاون نہيں کررہا ہے، معاملے کو یک طرفہ طور پرپیش کررہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ کویت اور ایران کے اطراف میں واقع کئی ممالک برسوں سے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کے اور ایران کے درمیان یہ فرق ہے کہ ایران اپنی مقامی ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرتا ہے جبکہ مغرب، دوسروں کو خود سے وابستہ رکھنے کے لئے سائنس وٹیکنالوجی پرصرف اپنی اجارہ داری چاہتا ہے۔اگر اسے ایٹمی ہتھیاروں پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جائے تو اس صورت میں بھی اس تشویش کا سرچشمہ ایران نہيں بلکہ ان ملکوں میں تلاش کرنا چاہئے جنھوں نے اپنے ایٹمی گوداموں میں ہزاروں ایٹمی ہتھیار اکٹھا کر رکھے ہیں اور صیہونی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح کر رکھا ہے۔ اور ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کی ممانعت کے عالمی دن انتیس اگست کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کے بیانات اس حقیقت کے غماز ہیں۔ بان کی مون نے کہا کہ دنیا کو سترہ ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے خطرہ ہے لیکن اب تک ان میں سے ایک ہتھیار بھی تباہ نہيں ہواہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے بجائے اس طرح کے ہتھیاروں کے حامل ممالک اپنے ایٹمی گوداموں کو ماڈرن بنانے کےلئے بھاری بجٹ کے ساتھ طویل المیعاد پروگرام رکھتے ہيں۔
لیکن عالمی برادری اس دہرے رویے کو دیکھ رہی ہے جبکہ یہی ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف جدوجہد کے دعوے دار ہیں اور ایران سے خوف زدہ کرکے اس کی سائنسی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اتفاق سے فرانس سمیت یہی ممالک، خلیج فارس کے بعض عرب ممالک کے لئے ایٹمی بجلی گھربنانے کی قراردادوں پر دستخط کرچکے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی دس سال سے جاری خلاف ورزیوں اور ایٹمی ٹیکنالوجی سے استفادے کی غیرمنطقی مخالتفتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس دھڑے بازی کامقصد ایران کے ایٹمی حقوق کو نظرانداز کرنا ہے، اس بنا پراس دھڑے پر حقیقت پسندانہ نظرڈالنی چاہئے تاکہ ایٹمی معاہدے کا حقیقی تجزیہ کیاجاسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲