اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پیٹر تھیو کرٹس کو شام میں بڑے پیمانے پر تشدد میں ملوث شدت پسند تنظیم 'النصرہ فرنٹ' نے اغوار کر لیا تھا، امریکی صحافی کو شام میں تعینات اقوام متحدہ کے مشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔
اس بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے کہ امریکی صحافی کی رہائی کیسے عمل میں آئی اور آیا ان کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا کیا گیا ہے۔
گمشدگی کے دوران پیٹر کرٹس کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کا تعلق امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن سے ہے۔
صحافی کے اہل خانہ کے مطابق، کرٹس کو اکتوبر 2012 میں القاعدہ سے منسلک دہشت گرد گروہ النصرہ فرنٹ نے اغوا کر لیا تھا۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے کوشاں امریکی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کے مطابق کرٹس ان 20 صحافیوں میں شامل تھے جو شام میں رپورٹنگ کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔
کرٹس کی رہائی سے چند دن قبل شام اور عراق میں تشدد میں ملوث دہشت گرد گروہ داعش نے 2012ء سے اپنی تحویل میں موجود امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کردیا تھا۔
تکفیری دہشت گرد گروہ نے واقعہ کا ایک ویڈیو بھی جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے امریکی صحافی کو عراق میں تنظیم کے ٹھکانوں اور جنگجوؤں پر امریکی فضائی حملوں کے جواب میں قتل کیا ہے۔
.......
/169