19 اگست 2014 - 09:08
گھر میں بیٹھ کر حکمرانوں کو بدعائیں دینے سے قوموں کی زندگی میں انقلاب نہیں آیا کرتے

انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب میں پی اے ٹی کے سربراہ نے اسلام آباد کے قرب و جوار کے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ انقلاب کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور جس جس نے اس انقلاب کے سورج کو دیکھنا ہے وہ اپنے خاندان سمیت یہاں آجائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ یہ انقلاب اب رک نہیں سکتا، بلکہ پاکستان کے کروڑوں افراد کے مقدر کو بدل کر رہے گا۔ جس نے انقلاب کا سورج دیکھنا ہے وہ آجائے۔ پاکستان بنا تو اس وقت انگریز سامراج کی حکومت تھی۔ آج سامراج کے ایجنٹوں کی حکومت ہے۔ یہ پاکستانی لوگ نہیں ہیں، یہ پاکستانی عوام، ریاست اور فوج کے دشمن ہیں۔ ان کی دلچسپی صرف لوٹ مار سے ہے، اور لوٹ مار کرکے یہ اپنی نسلوں کے لئے بزنس کی ایمپائر بناتے ہیں اور عوام کو معاشی غلام بنا رکھا ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1400 افراد کے خلاف مقدمات درج اور 25000 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ کارکنوں سے جنگی قیدیوں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔ شہداء ہی انقلاب کی جدوجہد کے اصل ہیرو اور مبارکباد کے لائق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب ایسے ہی نہیں آجاتا بلکہ جانیں مانگتا ہے۔  علامہ طاہرالقادری نے اپنے خطاب میں حضرت موسٰی علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ اللہ رب العزت نے فرعون کے لئے موسٰی کو بھیجا، اور فرمایا کہ اٹھو فرعون کے خلاف جو باغی ہوچکا ہے۔ اس قوم کے جوانوں نے حضرت موسٰی کی آواز پر لبیک کہا۔ جو لوگ عرصے سے فرعون کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے، ان میں جرات نہیں رہی تھی کہ وہ فرعون کے اقتدار کو للکار سکیں۔ پی اے ٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آپ کو یہ داستان اس لئے سنا رہا ہوں کہ آپ نے بہت بڑا رول ادا کرنا ہے۔ کل پاکستان میں انقلاب کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ غلامی کی زنجیریں آنکھوں سے ٹوٹتے دیکھنا اور وقت کے فرعونوں کو جھکتے دیکھنا ہے تو آجاو۔ کل تیاری کر لو۔ کل انسانوں کا بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل بنے گا۔ میں صرف اس لئے تاخیر کر رہا ہوں کہ لوگ اس میں شامل ہوسکیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ میں اس پوری قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس جدوجہد کا ذاتی کوئی حرص نہیں تھا۔ میری ایک ہزار کتابیں چھپی ہیں جن کی ماہانہ رائلٹی ماہانہ تیس لاکھ بنتی ہے۔ لیکن میں نے اس رائلٹی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ اگر حریص ہوتا تو چار چھ کنال کے گھر میں ہوتا، مگر میں ایک کنال کے گھر میں پچھلے 35 سالوں سے رہ رہا ہوں، جس میں میری تین فیملیاں رہتی ہیں۔ خدا کی قسم مجھے جو لذت سجدے اور مصلے میں آتی ہے وہ دنیا کے کسی بادشاہ کو نہیں ملتی۔ اپنی ساری لذتیں چھوڑ کر میں یہاں اللہ کی قسم 18 کروڑ عوام کی خاطر مارا مارا پھر رہا ہوں۔ مجھے ڈاکٹر طاہر القادری کسی اور ملک کینیڈا نے نہیں بنایا بلکہ پاکستان نے بنایا ہے۔ میں اپنی دھرتی کا قرض اتارنا چاہتا ہوں۔ تاکہ لوگوں کو رزق مل سکے اور ان کے چولہے جل سکیں۔ کل انشاءاللہ تعالٰی شام ٹھیک پانچ بجے یہاں پر عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد ہوگا۔ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں میں دھرنے شروع ہوچکے ہیں، راستے بلاک اور سڑکیں بند ہوچکی ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ اسلام آباد اور لاہور کی آدھی آدھی بجلیاں بند کر دی گئی ہیں، تاکہ لوگ میرا خطاب نہ سن سکیں۔ لیکن اب فیصلے میرے اور میرے قائدین کے ہاتھ میں نہیں بلکہ عوام کو منتقل ہوچکے ہیں۔ کل عوام کی پارلیمنٹ ہوگی، اور وہ جو فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد ہوگا۔ میری گاڑی کو جیمر سے جام کر دیا گیا ہے، مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارا پالا میرے سے پڑا ہے۔
دیگر ذرائع کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی جو کہ ختم ہوچکی ہے، انہوں نے آج شام پانچ بجے عوامی پارلیمنٹ کے انعقاد کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاء کو خراج تحسین پیش کیا جو کہ چودہ اگست سے ملک میں انقلاب لانے کے لئے سفر میں ہیں اور اس سے قبل آٹھ دن تک ماڈل ٹاؤن میں محصور رہے لیکن انقلاب کی جدوجہد کی حفاظت کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچیس ہزار کارکن ابھی تک گرفتار ہیں اور باقی جو آزاد ہیں وہ بھی پنجاب حکومت کی سختیاں برداشت کرتے رہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بوکھلاہٹ میں بے گناہ نوجوانوں پر ظلم کی انتہا کردی ہے۔انہوں نے ان تمام کارکنوں کو مبارک باد دی ہے کہ ان کی قربانیوں کے سبب آج یہ دن آیا ہے اور اس میں سب سے عظیم قربانی ان چودہ شہیدوں کی ہے جو انقلاب کا ہراول دستہ ثابت ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقلاب پھولوں کی سیج نہیں بلکہ تن من دھن کی قربانی مانگتا ہے، گھر میں بیٹھ کر حکمرانوں کو بدعائیں دینے سے قوموں کی زندگی میں انقلاب نہیں آیا کرتے۔ انہوں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وقت آںے والا ہے کہ آپ نے بڑا کردار ادا کرنا ہے، کیونکہ یہ انقلاب اب ملتوی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اسلام آباد کے قرب و جوار کے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ انقلاب کا سورج طلوع ہونے والا ہے اور جس جس نے اس انقلاب کے سورج کو دیکھنا ہے وہ اپنے خاندان سمیت یہاں آجائے۔

.......

/169