اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق میں دہشت گرد تنظیم داعش کے مظالم اور اذیتوں سے تنگ آ چکے اقلیتی برادری ایزدی کے کچھ رہنماؤں نے کرد حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی لڑکیوں کو قتل کر دیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ایزدی برادری کے سربراہوں نے کرد حکام سے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اس سے پہلے کہ ہماری لڑکیاں دہشت گرد تنظیم داعش کے چنگل میں پڑے، وہ ان کو قتل کر دیں۔سبق ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ ایزدی برادری کے کچھ افراد نے نے پيشمرگہ فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موصل اور تلعفر کے ان دو اسکولوں پر بمباری کر دیں جہاں ایزدی برادری کی خواتین اور لڑکیوں کو داعش نے قیدی بنا کر رکھا ہے۔
دہشت گرد تنظیم داعش کا کہنا ہے کہ اس نے ایزدی برادری کی سیکڑوں لڑکیوں اور خواتین کو سنجار سے تلعفر اور موصل منتقل کر دیا ہے۔ داعش کے دہشت گرد، ایزدی برادری کی اغوا شدہ عورتوں کو کنیز اور جنگ حاصل مال غنیمت سمجھتے ہیں۔
سنجار علاقے سے کرد فوجیوں کی اچانک پسپائی کے بعد داعش نے اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا. اس شہر پر قبضے کے دوران بہت سے عام شہری داعش کے حملے میں مارے گئے تھے۔ ایزدی برادری کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ ترجیح دیتے ہیں کہ ان کی عورتیں اور لڑکیاں داعش کے ہتھے چڑھنے سے پہلے مار دی جائیں۔
در ایں اثنا بی بی سی ریڈیو نے ٹائمز اخبار کی رپورٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شمالی عراق سے اغوا کی گئی ایزدی برادری کی سیکڑوں عورتوں اور لڑکیوں کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔ كردستان کی خفیہ سروس کے حوالے سے ٹائمز نے رپورٹ دی ہے کہ ہزاروں عراقی عورتوں اور لڑکیوں کو اغوا کیا جا چکا ہے اور انہیں انسانی اسمنگلروں کے ہاتھوں کنیز کی شکل میں فروخت کیا جا چکا ہے یا موجودہ وقت میں وہ دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں۔
كردستان کی خفیہ سروس کے افسر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کی مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان عورتوں اور لڑکیوں کو پانچ سو ڈالر سے تین ہزار ڈالر کی قیمت پر انسانی اسمنگلروں کے ہاتھوں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ٹائمز اخبار کا یہ ماننا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش نے سنجار سے کم سے کم 1200 اور عراق کے دیگر علاقوں سے ہزاروں خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کیا ہے. واضح رہے کہ دہشت گرد گروہ داعش نے ان عورتوں اور لڑکیوں کو عارضی طور پر موصل اور تلعفر میں رکھ رکھا ہے۔
.......
/169