اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل کیطرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور غزہ اور غرب اردن کے عوام کے حقوق کی پامالی سے حالات مزید خراب ہو جائیں گے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے دہشتگردی کی حمایت کی پالیسی کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سطح پر ناقابل تلافی نقصانات ہوئے ہیں۔
حسین امیر عبداللھیان نے جمعے کے دن جرمنی سے واپسی پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان ، عراق اور شام کے تجربات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ بعض ممالک کی جانب سے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لۓ دہشتگرد گروہوں کو استعمال کرنے کے پالیسی کے سیاسی ، سیکورٹی اور انسانی اعتبار سے علاقائی اور عالمی سطح پر ناقابل تلافی نقصانات ہوئے ہیں۔ حسین امیر عبداللھیان نے دہشتگردی اور انتہا پسندی سے مقابلے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ برلن کے حکام کے ساتھ جن موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گيا ان میں فلسطین کے عوام کی امداد کے طریقے اور غزہ کا بحران شامل تھا۔
حسین امیر عبداللھیان نے جرمن حکام سے ملاقات میں اس بات پر تاکید کی ہے کہ غاصب صیہونی حکومت عام شہریوں کو حملوں کا نشانہ بنا رہی ہے اور ابھی تک حماس کے صرف چند افراد ان حملوں میں مارے گئے اور یہ اسرائیلی حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے ۔ حسین امیر عبداللھیان کے مطابق مغربی ایشیا مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے بارے میں جرمنی کا موقف حقائق کے قریب اور یورپ سے مختلف ہے۔انتہا پسندی اور دہشتگردی کامقابلہ نیز اسکے منفی اثرات پر قابو پانا جرمن حکام کے پیش نظر ہے ۔ حسین امیر عبداللھیان نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ علاقائی ممالک بالخصوص عراق،لبنان اور شام میں جاری حالیہ دہشتگردی اور تکفیری فتنہ بیرونی طاقتوں کی مدد اور حمایت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔
اس وقت شام اور عراق دہشتگردی کی فرنٹ لائن بنے ہوئے ہیں۔ان ممالک میں سرگرم داعش اور دیگر گروہوں کا اسلام سے دور دور کا کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسرائیلی ایجنڈے پر کام کررہے ہین۔
غزہ پر جاری اسرائیلی بربریت نے رائے عامہ کے دلوں کو انتہائی دکھی کردیا ہے ۔دنیا بھر کے انصاف پسند صیہونی حملوں کی فوری بندش اور انکی زندگی کی ابتدائی ضروریات کو پورا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ایران کے عوام نے بھی غاصب صیہونی حکومت کے ان اقدامات سے اعلان بیزاری اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ملک گیر مظاہرے کئے ۔مظاہرین نے غزہ کے محاصرے کے خاتمےاور صیہونی حکمرانوں کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمات چلانے پر تاکید کی ہے ۔
اس وقت خطے کے جو صورت حال ہے اس میں تمام ممالک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ دہشتگردی سے مقابلے اور جارحیت کے مقابلے میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے اسکی شدید الفاظ میں مذمت کریں۔ اسی حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران نے اس حملے کے آغاز ہی میں اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کردیا تھا اور مختلف ممالک کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔اس حوالے سے ایران کے دارالحکومت تہران میں اسلامی پارلیمانی یونین کی ٹرائکا نیز ناوابستہ تحریک کی فلسطینی کمیٹی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس خصوصی طور پر قابل زکر ہے
.......
/169