اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے شمال میں گذشتہ کئی روز سے تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کے خلاف ہونے والی کاروائیوں سے بخوبی دکھائی دے رہا ہے کہ اس ملک کے عوام دھشتگردی اور تکفیریت کے خلاف یک آواز ہو گئے ہیں۔ عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کی جانب سے پیر کے روز اس ملک کی فضائیہ کو کرد فورسز کی مدد کرنے کے اعلان کے بعدعراقی عوام، تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کے خلاف ایک صف میں شامل ہو گئے اور وزیراعظم کے اس فرمان کے بعد عراقی اورکردستان فورسز نے مغربی حمایت یافتہ تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کے خلاف زبردست حملے کئےجبکہ عراقی وزارت دفاع نے کرد فورسز کی مدد کیلئے خصوصی فورس موصل بھیج دیا ہے۔
عراقی فورسز کے مابین اتحاد اورتکفیری دھشتگرد گروہ داعش کے خلاف ہونے والی کاروائی کی وجہ سے داعش کے دھشتگرد جمعرات کے روز طوزخورماتور کے علاقے سے فرار کر گئے اور عراقی فورسز نے اس علاقے اور اس کے اطراف کے علاقوں کوداعش کے دھشتگردوں سے پاک کر دیا اس طرح شمالی عراق کے تقریبا نصف سے زائد علاقوں کو آزاد کرا لیا گیا۔ لیکن اس قسم کی کامیابیوں کے باوجود عراق میں تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کے خطرے کو سنجیدہ لینا چاہئیے اس لئے کہ یہ گروہ اپنے اھداف کے حصول کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہے۔
داعش کے فتنے کوعراقی عوام صرف اپنے اتحاد سے ہی ختم کر سکتے ہیں اور عراق میں تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کی کاروائیاں 10جون2014کوغیرملکی اور بعثی عناصرکی حمایت اور تعاون سے شروع ہوئیں اور موصل پر قبضہ کر لیا گیا۔
تکفیری، بعثی داعش کی سازش کا پہلا مقصد عراق کی سیاسی صورتحال میں مداخلت اورسیاسی اور مذھبی گروہوں کے مابین اختلافات پیدا کرنا اورحتی نوری مالکی کے مخالفین کے خلاف بھی محاذ کھولنا تھا۔ جبکہ عراق کے شمالی علاقوں میں داعش کی گذشتہ دو ماہ کی کاروائیوں نے دکھا دیا کہ تکفیری دھشتگرد گروہ داعش نے عراقی کردستان سمیت تقریبا پورے عراق کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا حتی اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کا قتل عام، جھادالنکاح کے نام پرعراقی خواتین کا اغوا، عراقی عوام کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی جس کی وجہ سے عراقی عوام نے متحد ہو کر تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ البتہ تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کے اس قسم کے غیر انسانی اقدامات پرعوامی ردعمل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں خاص طور سے اقوام متحدہ کو سخت کاروائی کرنے اور سخت ردعمل دکھانے کی ضرورت ہے۔ ہر چند کن عراقی عوام پر اب داعش کی حقیقت آشکارا ہو گئی تاہم اگر اسے جڑ سے ختم نہ کیا گیا تو یہ ناسور عالمی امن کو خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ شام میں داعش کے تجربے اور اب عراق میں تکفیری دھشتگرد گروہ داعش کی کاروائیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دھشتگردی سے مقابلہ کرنے کے حامی ممالک جو داعش کیوجہ سے مخمصے کا شکار ہیں امن و امان کی فکر کریں بصورت دیگر داعش، عالمی خطرے کے طور پر ان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے
.......
/169