ابنا: نیویارک.......اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کےاسکول پراسرائیلی حملےمیں خواتین اوربچےجاں بحق ہوئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کےاسکول پرحملےمیں اقوام متحدہ کےاہلکاربھی ہلاک ہوئے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی سربراہ ویلیری آموس نے غزہ کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں پر جنگ بندی اشد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے غزہ میں بسنے والے لوگوں کے لیے 40 فیصد علاقہ ’نوگو‘ یا ممنوعہ علاقہ بن گیا ہے اور شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ویلیری آموس نے جمعرات کو اپنی تقریر میں کہا کہ 118000 ہزار افراد اقوام متحدہ کے سکولوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جب کہ بہت سے افراد کو خوراک کی قلت اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر اوچا نے کہا ہے کہ اسرائیل نے تین کلومیٹر کے علاقے کو (جو غزہ کے کل رقبے کا 44 فیصد بنتا ہے) فلسطینیوں کے لیے ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق گذشتہ 16 دن کی اس اسرائیلی جارحیت میں اب تک 710 فلسطینی اور 30 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔



























.......
/169