ابنا: غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف غاصب صہیونی حکومت کے جنگی جرائم کے آغاز کو تقریبا دوہفتے ہونے کو ہیں ان دوہفتوں کے دوران صہیونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں 4500 کے قریب فلسطینی عوام شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ سے وابستہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ادا رے،" آنروا" کی گزشتہ روز کی رپورٹ کے مطابق آنروا کے کیمپوں سے رجوع کرنے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے ۔ آنروا کے ترجمان " کرسٹوفر گانس" نے کہا ہے کہ یہ اعداد وشمار آنروا کے لئے ایک سنگ میل ہے اس لئے کہ دوہزار نو میں غزہ پر صہیونی حکومت کے حملوں کے دوران پناہ گزینی کی درخواست کرنے والوں کی تعداد اس وقت دو گنا ہو گئی ہے۔ موصولہ رپورٹوں کے مطابق آٹھ جولائی کو غزہ پر غاصب صہیونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کے آغاز سے اب تک پانچ سو ستر سے زیادہ فلسطینی شہید اور ہزاروں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اعتراف کیا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے غزہ پر اپنے وحشیانہ حملوں میں ممنوعہ اور غیر مروجہ ہتھیار استعمال کیے ہیں۔اقوام متحدہ سے وابستہ بعض ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ غاصب صہیونی حکومت نے غزہ پر اپنے حالیہ حملوں میں فاس فورس اور کلسٹرڈ بموں کے علاوہ مظلوم فلسطینیوں کو جدیدترین تباہ کن ہتھیاروں کابھی نشانہ بنایا ہے اور غزہ کے پر ہجوم علاقوں میں اسرائیلی ٹینکوں سے ایسے جدید قسم کے میزائیل داغے جارہے ہیں جن سے ظاہری تباہی کم ہوتی ہے لیکن جانی نقصانات زیادہ ہوتے ہیں۔ غاصب صہیونی حکومت نے غزہ کے مظلوم شہریوں کے خلاف "ڈائم" DIME کاربن بموں کا استعمال کیا ہے۔ ان بموں سے جسم جلے بغیر مکمل طورسے سیاہ ہوجاتے ہیں۔ غزہ پر صہیونی حکومت کے حملوں میں استعمال کیے جانے والے جدید ترین ممنوعہ ہتھیار، امریکی فضائیہ کے تیارکردہ ہیں۔ جو افراد ان ہتھیاروں کا نشانہ بنتے ہیں ان کے جسم پگھلنے لگتے ہیں اور پیٹ کے اندر گہرے زخم ہوجاتے ہیں۔غاصب صہیونی حکومت غزہ کے مظلوم عوام پر فاس فورس بم برساکر ان کا قتل عام کررہی ہے ۔ ان بموں کا شمار بھی عام تباہی پھیلانے والے ممنوعہ ہتھیاروں میں ہوتاہے ۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ صہیونی حکومت، غزہ کے عوام پر اپنے ممنوعہ اور تباہ کن ہتھیاروں کا تجربہ کررہی ہے۔ اس سے قبل سنہ دوہزار آٹھ میں بھی غزہ کے خلاف جنگ میں غاصب صہیونی حکومت نے ممنوعہ اور غیر مروجہ ہتھیاروں سے استفادہ کیا تھا حتی لبنان کے خلاف دوہزار چھے میں اسرائیل نے فاس فورس اور کلسٹرڈ بموں سمیت متعدد قسم کے ممنوعہ ہتھیار استعمال کیے تھے۔دریں اثنا عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عمرو موسی نے اپنے ایک بیان میں کھل کر کہا ہے کہ غزہ پر غاصب صہیونی حکومت کے وحشیانہ حملے، مکمل طور پر جنگی جرائم میں شامل ہیں۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھی غزہ میں صہیونیوں کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔غزہ میں صہیونیوں کی جارحیت کی تصاویر اس وقت تمام نیوز سائٹوں پر موجود ہیں جو خود فلسطینیوں کی مظلومیت اور صہیونی حکومت کے جنگی جرائم کےارتکاب کے واضح ثبوت ہیں لیکن عالمی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے صہیونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات کی جانب سے اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور رجعت پسند عرب حکومتیں فلسطینوں کے قتل عام کی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔
.......
/169