اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق اشرف غنی احمد زئی نے افغانستان میں امن و استحکام کو دونوں نامزد امیدواروں کا اصلی مقصد قرار دیا اور کہا کہ متحدہ قومی حکومت کی تشکیل افغان عوام کو سیاسی تنازعے سے نجات دلا سکتی ہے ۔ رپورٹوں کے مطابق اگلے دور کے مذاکرات عبداللہ عبداللہ کے گھر میں ہوں گے ۔ انتخابی کمیٹیوں کے دوران کئی دنوں کے مذاکرات کے بعد دوسرے دور کے صدارتی انتخابات کے دونوں نامزد امیدواروں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ انتخاباتی تعطل کو توڑنے کے لئے سوفیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائی جائے اور پھر متحدہ قومی حکومت تشکیل دی جائے ۔ عبداللہ عبداللہ کے سکریٹری محمد محقق نے متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کی نوعیت پر پہلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرائے جانے کےبعد ہی کامیاب صدر کا انتخاب عمل ميں آئے گا اور ساتھ ہی ہارنے والا نامزد امیدوار ملک کے انتظامی امور کی ذمہ داری سنبھالے گا ۔ محقق نے کہا کہ اس منصوبے کی بنیاد پرطے یہ پایا ہے کہ ایک سال کے بعد آئین میں تبدیلی کے بعد آئندہ کی حکومت میں وزیر اعظم کا عہدہ ایجاد کیا جائے گا اور ہارا ہوا نامزد امیدوار وزیر اعظم ہوگا ۔ متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ اس وقت پیش کیا گیا جب عبداللہ عبداللہ نے دوسرے دور کے صدراتی انتخابات کے نتائج پر اعتراض کردیا اور یہ دھمکی دی کہ وہ ایک متوازی حکومت تشکیل دیں گے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲