ابنا: وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ طویل المدت جوہری معاہدے تک پہنچنے کا خواہش مند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوہری مذاکرات اس وقت کامیاب اور نتیجے تک پہنچ سکتے ہے جب ایران اور گروپ پانچ جمع ایک قابل قبول حل کے پابند رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام یکطرفہ پابندیوں کو ختم کرنا، مذاکرات کار دونوں فریق کے لئے قابل قبول راستہ ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا دونوں فریق نے جنیوا معاہدے میں وعد کیا تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے نے اپنی متعدد رپوٹوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی موضوع میں ایران کے پاس چھپانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں پرامن اور صرف ایران کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے انجام دی جا رہی ہیں۔
.....
/169