اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستانی فوج نے حکومت کی ہدایت پر دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان میں باضابطہ طور پر آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ کے مطابق شمالی وزیرستان کومرکزبنا کردہشت گردوں نے پاکستان کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہےجن کے خاتمے کے لئے حکومت کی ہدایات کی روشنی میں آپریشن کا آغاز کردیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا نام ”ضرب عزب“ رکھا گیا ہے جس میں غیر ملکی اور مقامی دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں موجود دہشت گردوں نے مقامی افراد کے علاوہ پوری قوم کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے جب کہ دہشت گردوں کی جانب سے پے در پے کارروائیوں کے نتیجے میں معیشت سمیت زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے تاہم قوم کے تعاون سے قیام امن کے لئے دہشت گردوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیار کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور پاک سرزمین کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لئے پاک فوج کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں شروع کیا جانے والا فوجی آپریشن دہشت گردوں کے مکمل خاتمے یا ہتھیار ڈالنے تک جاری رہے گا۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے ذریعے ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن دہشت گردوں کی جانب سے معصوم شہریوں اور قومی اثاثوں پر حملوں نے مایوس کیا لہذا اب شہریوں اور قومی اثاثوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں، پوری قوم مکمل طور پر افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ آپریشن بہت جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا اور پاک فوج کو فتح حاصل ہوگی۔ ادھر پاکستان کے شہر کراچی کی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے بھی وفاقی حکومت کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ فوجی آپریشن کے آغاز کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے۔ انہوں نے دہشتگردوں کے ممکنہ حملوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد پاک فوج کی توجہ ہٹانےکیلئےشہروں میں حملےکریں گے جنہیں ناکام بنانے کے لئے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲