ابنا: ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کی رات انقرہ میں ترک صدر عبداللہ گل کی جانب سے دیے گئے عشائیہ میں دونوں ممالک کی وسیع اقتصادی توانائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کی اقتصادی ہم آہنگی، باہمی تعلقات سے آگے بڑھ کر علاقائی ممالک کی معیشت کے لئے انجن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے دونوں ممالک کے سیاسی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات میں مسلسل فروغ آیا ہے۔
صدر روحانی نے اسی طرح علاقے کے کچھ ممالک میں جاری دہشت گردی اور انتہا پسندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کچھ بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ انتہا پسندی کا مسئلہ زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور اس کی روک تھام کے لئے ایران اور ترکی کا باہمی تعاون ضروری لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور ترکی کے تعلقات میں مضبوطی نہ صرف علاقے اور عالمی سطح پر دونوں ممالک کی پوزیشن کو مضبوط بنائے گی بلکہ اس سے پورے علاقے کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی حالت مضبوط اور امن و سلامتی مستحکم ہوگی۔
.......
/169