4 جون 2014 - 19:32
اسلامی شریعت اور جمہوریت مکتب خمینی (رہ) کے دو بنیادی ستون/ تکفیری اور سلفی گروہ شیعوں کے اصلی دشمن نہیں ہیں

اسلامی شریعت اور جمہوریت، امام خمینی (رہ) کے مکتب کے دو اصلی ستون ہیں اور ایرانی قوم اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ کرکے حضرت امام خمینی (رہ) کے قابل فخر راستے پر گامزن رہےگی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بانی انقلاب اور رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر ملک بھر سے آپ کے مزار پر آئے ہوئے لاکھوں عاشقان انقلاب  اور غیر ملکی مہمانوں اور زائرین نے آپ کے مرقد پر حاضری دے کراستقامت، پائداری، انقلاب اور بانی انقلاب کے ساتھ عشق و محبت کے شاندار اور بے مثال جلوے پیش کئے اور اپنے مرحوم پیشوا کے ساتھ  دوبارہ تجدید عہد کیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اس عظیم اجتماع سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پیشرفت، ترقی، طاقت اور قدرت کے بارے میں اقوام عالم کے روزافزوں شوق و اشتیاق اور جستجو کی تشریح، علل و اسباب، اسلامی شریعت  اور اس کی بنیاد پرجمہوریت کے قیام کو حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کے دو ستون قراردیا اور حضرت امام خمینی (رہ) کے اس سیاسی اور نئے مدنی نسخہ کے بارے میں ایرانی عوام اور حکام کی وفاداری پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ کی تخریب کاریاں اور رکاوٹیں اور حضرت امام خمینی (رہ) کی تحریک کی جہت گيری، سمت و سو اور جوش و جذبے کا کمرنگ ہونا، درحقیقت دو بڑے اور بنیادی چیلنج ہیں جنھیں ایرانی قوم شناخت کرکے اور ان پر غلبہ پا کر حضرت امام خمینی (رہ) کے مایہ نازاور سعادت بخش راستے گامزن رہے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس عظيم قومی اجتماع میں اپنے خطاب کے پہلے حصہ میں، اقوام عالم بالخصوص مسلمان قوموں کے افکار و اذہان میں حضرت امام خمینی(رہ) اور اسلامی جمہوریہ کے سلسلے میں  روزافزوں محبت، الفت اورجاذبے کو ایک اہم حقیقت قراردیتے ہوئے فرمایا: رہبر کبیر انقلاب اسلامی کی رحلت کے 25 برس بعد ،عوام کے مختلف طبقات بالخصوص جوان اور عالم اسلام کے دانشور شوق و اشتاق کے ساتھ  اسلامی جمہوریت، نظریہ ولایت فقیہ اور انقلاب  کے دوسرے مسائل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے مشتاق ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف دشمنوں کی پیہم، مسلسل اور وسیع تبلیغاتی اور سیاسی یلغار کو انقلاب اسلامی کے بارے میں قوموں کی مزید تحقیق و جستجو کو ایک اور عامل قراردیتے ہوئے فرمایا: عالم اسلام کی رائے عامہ پہلے سے کہیں زیادہ انقلاب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی مشتاق ہے تاکہ وہ اس حقیقت کی تہہ تک پہنچ جائے کہ اس حکومت پر پیہم اور مسلسل یلغار کی اصل وجہ کیا ہے اور اس کی استقامت و پائیداری اور کامیابیوں کی رمز اور اس کا راز کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری اور سامراجی طاقتوں کے خلاف عوامی احساسات اور جذبات کو انقلاب کے بارے میں قوموں کے ادراک، جستجو اور تحقیق کا نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: سامراجی محاذ اسٹراٹیجک غلطی میں یہ تصور کرتا ہے کہ اس نے اسلامی بیداری کی جڑیں اکھاڑدی ہیں لیکن وہ فہم و ادراک جو اسلامی بیداری کا سبب بنا وہ ختم ہونے والا نہیں اور یہ رجحان جلد یا دیر عالم اسلام میں پھیل جائےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کی مسلسل، لگاتار اور پیہم ترقیوں کو اسلامی جمہوریت کے بارے میں دیگر اقوام کی تحقیق اور جستجو کی ایک اور دلیل قراردیتے ہوئے فرمایا: عالم اسلام کی جوان نسل اس تاریخی اور اہم سوال کے جواب کی تلاش میں ہے کہ امریکہ کی اقتصادی پابندیوں، دشمنوں کی سیاسی، فوجی اور تبلیغاتی عداوتوں اور سازشوں کے مقابلہ میں اسلامی نظام نے 35 سال تک کیسے استقامت و پائیداری کا مظاہرہ کیا اور کیسے تنگ نظری و قدامت پرستی کے بغیر روز بروز ترقی و پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن ہے اور قدرتمند اور طاقتور بن گیا ہے؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ کی جذابیت اور اس کی نسبت محبت کے مزید علل و اسباب کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: مسلمان قومیں اور عالم اسلام کےدانشور،  تعلیم یافتہ افراد اور جوان، ایرانی قوم کی فضائی ترقیات کو مشاہدہ کر رہے ہیں، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران کی پیشرفت اوردنیا کے پہلے دس ممالک کی فہرست میں ایران کی شمولیت کو مشاہدہ کررہے ہیں۔ عالمی اوسط پیشرفت کی نسبت ایران کی 13 برابر سرعت و پیشرفت کو ملاحظہ کررہے ہیں اور اس بات کو بھی اچھی طرح درک کررہے ہیں کہ علاقائی پالیسیوں میں ایرانی قوم کی بات حرف اول کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اسرائیل کی غاصب صہیونی حکومت کے مد مقابل استقامت کا مظاہرہ کررہا ہے اور مظلوم کا دفاع اور ظالم کا مقابلہ کررہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یہ حقائق ہر انسان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں مزید جستجو اور تحقیق کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ 35 برسوں میں 32 انتخابات، اور ان میں عوام کی قابل تحسین اور حیرت انگیز شرکت، نیز 22 بہمن اور یوم قدس کی عظیم ریلیوں میں عوام کی ولولہ انگیز شرکت کو غیر ملکی افکار اور رائے عامہ کے لئے ایران کے دیگر جذاب حقائق قراردیتے ہوئے فرمایا: ہمیں ایسے مسائل کی عادت ہوگئی ہے اور ان کی عظمت و اہمیت ہماری آنکھوں کے سامنے اجاگر نہیں ہوتی لیکن یہ خوبصورت حقائق عالمی ناظرین اور دوسرے ممالک کی اقوام کے لئے سوال برانگیز اور حیران کن اور خيرہ کنندہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ان تمام حقائق کو اسلامی انقلاب کے عظيم معمار حضرت امام خمینی (رہ) کی دانشمندانہ اور توانا فکر کا مظہر قراردیا اور امام خمینی (رہ) کے مکتب کی مختصر تصویر پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب کو جاری رکھا۔

اس حصہ میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب کا اصلی نکتہ اس حقیقت پر مبنی تھا کہ ہدف اور مقصد تک پہنچنے کے لئے راستہ کو گم نہیں کرنا چاہیے اور اس راستہ پر آگے کی سمت صحیح طریقہ سے گامزن رہنے کے لئے اس عظیم معمار کے اصلی نقشہ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی عقلانیت کی بنیاد پر سیاسی اور مدنی نظریہ کی بنا رکھنے کو حضرت امام خمینی (رہ) کا اصلی نقشہ قراردیتے ہوئے فرمایا: وابستہ، ڈکٹیٹر اور فاسد شہنشاہیت نظام کا خاتمہ اور ڈکٹیٹر حکومت کی تمام خصوصیات کا خاتمہ در حقیقت ایک عظيم عمارت تعمیر کرنے کا مقدمہ تھا اور حضرت امام خمینی (رہ) نے اپنی بلند ہمت اور قوم کے تعاون سے اس عظيم کام کو حسن و خوابی کے ساتھ انجام دیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے مد نظر سیاسی و مدنی نظام کے اصلی ستونوں کی تشریح میں دو باہم منسلک اساسی نکتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: پہلا نکتہ اسلامی جمہوریہ کی روح اور جوہر کے عنوان سے اسلامی شریعت اور دوسرا نکتہ جمہوریت اور انتخابات کے ذریعہ امور کو عوام کے سپرد کرنا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: کسی کو یہ وہم و گمان نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت امام خمینی (رہ) نے انتخابات کو مغربی ثقافت سے اخذ کیا اور پھر اسے اسلامی فکر کے ساتھ مخلوط کردیا کیونکہ اگر انتخابات اور جمہوریت، اسلامی شریعت کے متن سے اخذ نہ ہوسکتی، تو امام (رہ) اس بات کو واضح اور صریح طور پر بیان کردیتے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب کی بنیاد پر اسلامی نظام کی ماہیت اور حقیقت کے عنوان سے اسلامی شریعت پر تمام امور، قانون سازی، پالیسیاں، عزل و نصب، عمومی رفتار اور دیگر مسائل میں کامل توجہ رہنی چاہیے اور اس کے ساتھ اس سیاسی اور مدنی نظم کی حرکت جمہوریت کی بنیاد پر ہے جو اسی شریعت کا مظہر اور اسی سے برخاستہ ہے اور عوام بالواسطہ یا بلا واسطہ ملک کے تمام حکام کو انتخاب کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی شریعت کے کامل نفاذ کو 4 اصلی عناصر " استقلال، آزادی، انصاف اور معنویت " کی فراہمی کا سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی سعادت بخش شریعت پر عمل، مدنی اور انفرادی آزادی کے علاوہ سامراجی طاقتوں کی قید سے قومی آزادی یعنی قومی استقلال کا سامان بھی فراہم کرتی ہے عدل و انصاف کو عملی جامہ پہناتی ہے اور معنویت کو ہمراہ لاتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس کے بعد امام خمینی (رہ) کے مکتب کے ایک اور اہم نکتہ کی تشریح اور تفصیل بیان کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کے مکتب میں زور اور زبردستی اور ہتھیاروں کے ذریعہ غلبہ اور طاقت کا حصول قابل قبول نہیں ہے البتہ عوامی طاقت اور انتخاب کے ذریعہ حاصل ہونے والی قدرت و اقتدار محترم اور قابل قبول ہے اور کسی کو اس کے خلاف سینہ سپر نہیں کرنا چاہیے اگر کسی نے ایسا کام کیا تو اس کا یہ کام فتنہ کہلائے گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سیاسی ادبیات میں حضرت امام خمینی (رہ) کے سیاسی و مدنی نسخہ کو تازہ باب قراردیا اور اس  نئے نسخے کے ایک دوسرے عنصر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امام خمینی (رہ) کے مکتب کا ایک اصلی عنصر مظلوم کی مدد و حمایت اور ظالم کے ساتھ مقابلہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں حضرت امام خمینی (رہ) کی طرف سے فلسطینی عوام کی مکمل ، مسلسل و پیہم حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ظالم کے مقابلے میں استقامت اور ظالموں کے کر و فر کو ختم کرنا ، امام خمینی (رہ) کے مکتب کی ایک اہم اصل ہے جس پر ایرانی قوم اور حکام کو ہمیشہ توجہ رکھنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے سیاسی اور مدنی نسخہ کے نفاذ کو صرف تھیوری پر مبنی نظریات کے ساتھ ان کے مکتب کا آشکارا فرق قراردیا، اور یہ بنیادی سوال اٹھایا کہ: وہ عظیم کام جسے حضرت امام خمینی (رہ) نے کامیابی کے ساتھ انجام دیا کیا وہ آگے کی سمت گامزن رہےگا؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس سوال کا جواب مثبت اور مشروط دیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کے خوبصورت اور زیبا جدول میں قدرتی طور پر کچھ خالی خانے موجود ہیں اور ان کو بھرکر اس فیصلہ کن راہ پر آگے کی سمت بڑھنا بالکل ممکن ہے لیکن اس سلسلے میں قومی آگاہی ، ہمت اور  اس راہ کے عناصر کی مراعات شرط ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت امام خمینی (رہ) کے اہداف اور اصولوں پر قوم کی وفاداری کو قابل تحسین قراردیتے ہوئے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) کی رحلت کے 25 سال بعد قوم نے جس حرکت کا مظاہرہ کیا اس سے اس جدول کے تمام خالی خانہ پر ہوجاتے ہیں اور امام (رہ) کی راہ پر گامزن رہنے کے سائے میں اور اللہ تعالی کے اذن سے ایرانی قوم طاقت اور قدرت کے اوج تک پہنچ جائے گي۔

رہبر معظم نے اپنے خطاب کے آخری حصے میں تشیع کے خلاف تکفیری اور سلفی گروہوں کی طرف کئے جانے والے دھشتگردانہ اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تکفیری اور سلفی ٹولے شیعوں کے اصلی دشمن نہیں ہیں بلکہ ہمارے اصلی دشمن وہ ہیں جو ان کو مالی تزریق کرتے اور انہیں اسلحہ دے کر ان کاموں پر ابھارتے ہیں اور فریب خوردہ اور جاھل قسم کے بے عقل افراد مسلمانوں کے لیے وبال جان بن چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲