اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اردن کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق اردن میں ایک عیسائی باپ نے اپنی بیٹی کو اس وقت شہید کر دیا جب اسے خبر ہوئی کہ اس کی بیٹی مسلمان ہو گئی ہے۔ علاقے کے مسلمانوں نے اس تازہ مسلمان شدہ لڑکی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق اردن کے شمالی صوبہ ’’عجلون‘‘ میں ایک عیسائی باپ نے اس بات کی خبر سنتے ہیں کہ اس کی بیٹی مسلمان ہو گئی ہے فورا اپنی بیٹی کا قتل کر دیا۔ اس واقعے سے علاقے میں تشدد کی فضا پھیل گئی ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق عجلون کے مسلمانوں نے قاتل عیسائی باپ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس صوبہ کے چرچ کے سامنے دھرنا دیا ہے۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق یہ سترہ سالہ لڑکی گزشتہ ہفتے بدھ کے روز ایک مسلمان عالم دین کی تقریر سن کر مسلمان ہوئی تو اسی روز جب اس کے عیسائی باپ کو اس کے مسلمان ہونے کی خبر ہوئی تو اس نے ایک پتھر سے بیٹی کے سر پر وار کر کے اسے شہید کر دیا۔
اس واقعے کے بعد علاقے کے مسلمانوں نے چرچ کے سامنے دھرنا دے کر اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ شہید لڑکی کا جنازہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونا چاہیے۔
سکیورٹی فورس کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں نے اس لڑکی پر نماز جنازہ ادا کی جس کی وجہ سے علاقے میں مزید انتشار پھیل گیا پولیس نے حالات کو کنٹرول میں لینے کے لیے ہوائی فائر بھی کئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۵۲