ابنا: اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ظالمانہ تھیں اور ایران کا حق ہے کہ وہ ان ظالمانہ پابندیوں کو ختم کرانے کے سلسلے میں کوشش کرے انھوں نے کہا کہ عدم تدبیر اورپابندیوں کی وجہ سے مہنگائی 43 فیصد تک پہنچ گئی تھی حکومت نے گذشتہ سال مہنگائي پر کنٹرول کرتے ہوئے اسے 35 فیصد تک پہنچا دیا اور اس سال مہنگائی کو 25 فیصد تک پہنچا دیں گے۔ ایرانی صدر نے گروپ 1+5 کے ساتھ مذاکرات کو تعمیری قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ، ان مذاکرات میں شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایران یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے اور ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے اور ایران کی شفافیت سے بہت سے ممالک مطمئن ہوگئے ہیں۔
صدر حسن روحانی کہا کہ مذاکرات میں ملکی اور قومی مفادات کا تحفظ پیش نظر ہے اور مذاکرات میں قومی حقوق کے حصول کی تلاش و کوشش کی جاری ہے اور ریڈ لائنوں سے کسی کو عبور کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ صدر روحانی نے کہا کہ ایران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہت ہی خوشگوار اور دوستانہ ہیں اور ایران کی سعودی عرب کے ساتھ کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ سعودی عرب کی مشکل علاقائي مشکلات ہیں۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ یورپی اور مغربی ممالک کے سیاستدانوں اور تاجروں کی ایران میں رفت و آمد کا سلسلہ جاری ہے جو ایران کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کا مظہر ہے۔
.......
/169