17 اپریل 2014 - 13:41
ڈاکٹر روحانی کے دورۂ سیستان و بلوچستان کا اختتام

اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی، سیستان و بلوچستان کا صوبائی دورہ مکمل کرکے واپس دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی، منگل کے روز دو روزہ دورے پر زاہدان گئے تھے جہاں ان کا عوام نے شاندار استقبال کیا۔ ڈاکٹر روحانی نے صوبۂ سیستان و بلوچستان کے اپنے دورے کے آخری دن نامہ نگاروں کے اجتماع میں صوبۂ سیستان وبلوچستان کے لئے حکومت کے ترقیاتی  پروگراموں کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ صوبۂ سیستان و بلوچستان کے لئے مختلف شعبوں خاص طور پر زراعت کے شعبے میں 99 ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دیدی گئی ہے اور آئندہ سال کے پہلے نصف تک ان پر عملدرآمد ہوگا ۔
صدر ڈاکٹر روحانی نے اس صوبے ميں امن وامان کی برقراری کو اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کے پیش نظر کہ یہ صوبہ، دو ملکوں کے پڑوس میں واقع ہے اور ان میں کافی حد تک امن و سلامتی کا فقدان ہے اس لئے صوبۂ سیستان و بلوچستان ميں امن وسلامتی کی برقراری کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں  کہا کہ ایران آج علاقے ميں ایک طاقتور، آزاد و خودمختار اور اہم اسلامی ملک شمار ہوتا ہے کہ جس کے بارے میں بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے لہذا ایسا  رویہ اپنایا جائے کہ عالمی سطح پر مشکلات کا حل نکالا جاسکے۔ صدر مملکت نے گذشتہ مہینوں کےدوران ، گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے دائرے ميں حکومت ایران کے اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انجام پانے والا یہ معاہدہ درحقیقت ، بہت سخت و دشوار کام تھا ۔ ڈاکٹر روحانی نے ملت ایران کے دشمنوں کے غم وغصے کو، عالمی سطح پراسلامی جمہوریۂ ایران کی کامیابی کی علامت قرار دیا اور کہا کہ حتمی مذاکرات کی راہ میں اب تک کافی اہم اور امید افزا اقدامات انجام پاچکے ہیں۔  

.......

/169

لیبلز