17 اپریل 2014 - 12:01
یوکرین کے بحران سے ایران کو بھی کوئی فائدہ؟

یوکرین کے بحران کے کچھ ہفتے بعد کہ جس سے روس اور مغرب اور خاص کر امریکہ کے مفادات میں تقابل شروع ہو گیا ہے ،اب یورپین یونین کی طرف سے روس پر پابندیوں کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور ہونے لگا ہے ،وہ پابندیاں جو یوکرین میں بحران کے ساتھ ایرانی مفادات کے لیے مفید ثابت ہوں گی ۔

اہل بی(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ یورپین یونین نے حالیہ ہفتوں میں یوکرین کے بحران کے پھیل جانے کے بعد اور روس کے ساتھ تقابل کے سلسلے میں اعلان کیا تھا کہ اس تقابل کے بعد وہ ایک اہم آزمائش کے راستے پر ہے  جس کے نتیجے میں کوشش یہ ہوگی کہ روس سے طبیعی گیس کی واردات میں کمی کی جائے۔

کچھ عرصہ پہلے اکنومسٹ نشریے نے اعلان کیا تھا کہ ،یورپین یونین کے اس فیصلے کی پہلی قربانی گیس لے جانے والی ساوتھ اسٹریم پائپ بنے گی جو کالے سمندر کے راست یوکرین کو ایک طرف چھوڑتے ہوئے روس کی گیس کو یورپ تک پہونچانے والی ہے ۔اسی طرح ٹرینس ایڈریاٹک پائپ کے لیے یہ اچھی خبر ہوگی کہ جو سال ۲۰۱۸ تک مکمل ہو گی اور ترکی سے قفقاز کی گیس کو یورپ سپلائی کرے گی ۔

لیکن دوسری طرف ،یہی چیز ایران کے لیے ایک سنہری موقع بن سکتی ہے ، اگر سیاست میں سدھار  کی رفتار یونہی مثبت رہے ،تو روس کی گیس پر پابندی  ایران کے لیے  کہ جو عالمی گیس کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے اور پابندیوں کی وجہ سے اس میدان میں اسے زیادہ ترقی نہیں ملی ہے ،مفید ثابت ہو گی ۔

اس رپورٹ کی بنا پر وزیر صنعت محمد رضا نعمت زادہ نے  حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ یورپ کو گیس فراہم کرنے کے سلسلے میں ایران ایک قابل اعتماد شریک ہو سکتا ہے ۔انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا ،کہ ایران ایک ایسی پائپ بچھانے کے درپے ہے کہ جو ایران کے جنوبی علاقوں کی گیس کو ترکی منتقل کرے گی ۔

دوسری طرف یوکرین کا بحران ،اور روس اور مغرب کا آمنا سامنا ایران کے جوہری مذاکرات میں جیت کا مہرہ بن سکتا ہے روس کے معاون وزیر خارجہ اور پانچ جمع ایک کے مذاکرات میں اس ملک کے نمائیندے ،سرگی ریبا کوف نے گذشتہ ماہ کھل کر اعلان کیا تھا کہ :ہم نہیں چاہتے کہ ان مذاکرات میں ایک گروہ پر شرطیں عاید کر کے اس کو نیچا دکھائیں لیکن اگر مغرب ہمیں مجبور کرے گا تو ہم ان مذاکرات میں تلافی کرنے والے اقدامات کو بھی دخیل کریں گے ۔

یہ امر اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ پانچ جمع ایک کے گروہ کے درمیان ایران پر پابندیوں کے سلسلے میں اتحاد ضروری ہے  اس دوران اگر کوئی فریق بھی ڈھیلا پڑتا ہے تو ایران زیادہ اطمئنان اور فوائد کے ساتھ مذاکرات کو آگے لے جا سکتا ہے ۔

ان موضوعات کو ایران اور روس کے مابین ہونے والے تیل کے معاھدے کے ساتھ رکھنا چاہیے کہ جو حال ہی میں شروع ہوئے ہیں اور امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ جنیوا سمجھوتے کے مفاد کے خلاف ہیں ۔روس اور مغرب کی چپقلش خاص طور پر اس معاھدے کے جلدی منعقد ہونے میں موئثر ہو سکتی ہے۔

آخر میں ان سب کا مطلب یہ ہے کہ اگر مغرب اور روس کی موجودہ فضا ایسی ہو جائے کہ ایران یورپین یونین اور امریکہ کی توجہ کا دوسرا موضوع بن جائے اور چونکہ ایران اور روس کے نسبتا دوستانہ روابط ہیں ،یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران یوکرین کے بحران اور روس اور مغرب کے تقابل میں اصلی جیت کا حامل ہو گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲