اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ فرانس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئ لاوروف نے، یوکرین کے بحران کے مسئلے ميں مغربی ملکوں پر حد سے زیادہ ریاکاری اور فریب کا الزام عائد کیا۔ لاوروف نے مزید کہا کہ روس کی حکومت اس دور کی یاد آوری کرانا چاہتی ہے جب یوکرین کے آزادی اسکوائر میں تشدد میں دسیوں افراد مارے گئے تھے اور اسے ڈیموکریسی کا نام دیا گيا تھا لیکن اب جبکہ مشرقی یوکرین ميں پرامن مظاہرے ہورہے ہیں تو اسے مغرب ، دہشت گردی کا نام دے رہا ہے ۔ روس نے یوکرین کے حکام کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی یوکرین میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرے۔ خیال رہے کہ مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند مظاہرین نے گذشتہ ہفتے سے کئی مقامات پر کنٹرول کر رکھا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں روس کے سفیر ویٹالی چورکن نے کیئف کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین سے مذاکرات شروع کرے۔ان کا کہنا تھا کیئف کی خود ساختہ حکومت کو اپنے ہی لوگوں پر حملے روکنے ہوں گے۔ روسی سفیر نے مشرقی یوکرین کے مظاہرین کے خدشات کو اہمیت نہیں دیئے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ دوسری جانب امریکہ نے روس پر مشرقی یوکرین میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے ماسکو کو نئی پابندیوں کی دھمکی دی ہے ۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمنتھا پاور نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں بھی وہی کہانی دوہرائی جا رہی ہے جو ہم پہلے ہی کریمیا میں دیکھ چکے ہیں۔ مشرقی یوکرین میں روسی نژاد عوام کی ایک بڑی تعداد ہے، روس نواز معزول صدر یانوکوچ کی معزولی کے بعد سے یہاں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲