اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ڈینئل رسل ( Daniel Russell) نے جمعرات کے دن میانمار کے دارالحکومت نیپیٹاو میں اس ملک کے صدر تھین سین سے ملاقات کی۔ امریکی حکومت کا یہ عہدیدار میانمار کے حکام کے لۓ امریکی حکومت کی جانب سے باہمی تعاون کے پیغام کا حامل ہے۔ رسل نے نیپیٹاو جانے سے قبل اس ملک کے سابقہ دارالحکومت رنگون میں واقع امریکی سفارت خانے میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ امریکہ میانمار کی حکومت کی ادویات، صحت اور میڈیکل سے متعلق ضروریات پوری کرے گا۔ رسل نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ واشنگٹن اپنے آپ کو ریاست راخین میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تشدد کا حل تلاش کرنے کا پابند جانتا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے اس ریاست کے روہنگیا مسلمانوں کا نام تک نہ لیا اور ان کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے ان کی جانب اشارہ نہ کیا۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کا ملک خود کو انسانی مسائل کے حل کا پابند جانتا ہے۔ میانمار میں راخین مسلمان آبادی والی واحد ریاست ہے اور یہ اس ملک کے مغرب میں واقع ہے۔ اس ریاست کے مسلمانوں کو صرف ان کی دینداری اور دینی عقائد کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ تشدد میانمار کے انتہاپسندوں بڈھسٹوں نے گزشتہ دو برسوں سے شروع کر رکھا ہے۔
میانمار کے انتہاپسند بڈھسٹ گزشتہ دو برسوں سے کسی روک ٹوک کے بغیر راخین کے مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں مسلمان مارے جاچکے ہیں ، ہزاروں گھروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے اور کئي ہزار مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
اگرچہ اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کے لۓ کام کرنے والی تنظیموں خصوصا اقوام متحدہ نے انتہا پسند بڈھسٹوں کے غیر انسانی اقدامات کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے لیکن امریکی حکومت اور واشنگٹن سے وابستہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے انسانوں کے دفاع کے لۓ کوئي قدم نہیں اٹھایا ہے۔ البتہ امریکی حکومت یہ ظاہر کرنے کے لۓ کہ دنیا میں اس کی ساکھ بہت اچھی ہے وقتا فوقتا مسلمانوں کے حقوق کی وسیع پیمانے پر کی جانے والی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔ میانمار کی ریاست راخین میں انتہا پسند بڈھسٹوں کی جانب سے اقوام متحدہ کے امدادی کارکنوں پر حملے کے بعد امریکی وزارت خارجہ نے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امدادی کارکنوں پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کرے۔
امریکی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو انسان دوستی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد کو بند نہ کیا جائے اور میانمار کی حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ اس بات کو بیان کرنے کے لۓ کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ امریکہ کس حد تک انسانی حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ امریکہ کی انسان دوستی کو سمجھنے کے لۓ عراق ، افغانستان ، پاکستان اور دنیا کے دوسرے ممالک کے لوگوں پر اس کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے گزشتہ عشروں کے دوران انسانی حقوق کے نام پر بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر بہت سے ممالک میں مداخلت کی اور طاقت کے استعمال اور فوجی کارروائی کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ البتہ میانمار اس سلسلے میں مستثنی رہا ہے مطلب یہ کہ امریکہ نے کبھی بھی میانمار کے خلاف لشکر کشی نہیں کی۔ لیکن جیسا کہ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ ویلیم برنز (William
Burns ) کا کہنا ہے کہ امریکہ ایشیاء پیسیفک میں موجود مواقع سے اپنی آنکھیں بند نہیں رکھ سکتا ہے۔
بہرحال امریکہ کے نزدیک جمہوری حکومت کی تشکیل سے پہلے تک میانمار جمہوریت کے لۓ مناسب جگہ شمار نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اب میانمار جمہوریت کےلۓ اچھی اور مناسب جگہ ہے۔ امریکیوں کے نزدیک میانمار نے بین الاقوامی فرائض کی ادائیگي کے راستے پر قدم اٹھا دیا ہے اور امریکہ کی گائیڈڈ ڈیموکریسی میانمار میں پنپنے لگی ہے لیکن اس ساری صورتحال میں ہمیشہ کی طرح جس چیز کو نظر انداز کردیا گيا ہے وہ ان لاکھوں مسلمانوں کے حقوق ہیں جن کو ان کے دین کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
13 اپریل 2014 - 04:10
News ID: 602111
میانمار کے انتہاپسند بڈھسٹ گزشتہ دو برسوں سے کسی روک ٹوک کے بغیر راخین کے مسلمانوں پر حملے کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں مسلمان مارے جاچکے ہیں ، ہزاروں گھروں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے اور کئي ہزار مسلمان اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔