ابنا: العالم کی رپورٹ کے مطابق میڈلیسٹ آنلائن کی رپورٹ مطابق سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ یمن میں القاعدہ کے حالیہ دنوں میں سرگرم ہونے کی ایک بڑی وجہ شام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں ہیں اور شام میں دھشتگرد گروہوں کو ہونے والی پے در پے ناکامیوں کی بنا پر اکثر دھشتگرد عناصر فرار ہوکر یمن پہنچنا شروع ہوگئے ہیں اور انہوں نے یمن میں القاعدہ میں اپنی سرگرمیوں کو شروع کردیا ہے۔ سیاسی حقلوں کا کہنا ہے کہ شام میں سرگرم دھشتگرد گروہ "داعش" اور "جبھۃ النصرہ" کے درمیان شدید اختلافات کی بنا پر دھشتگرد گروہ "داعش" کے عناصر یمن میں القاعدہ گروہ کے ساتھ ملحق ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب القاعدہ نے بھی "داعش" کے ساتھ اپنی وابستگی کو خفیہ نہیں رکھا ہے اور القاعدہ گروہ بھی دھشتگرد گروہ "جبھۃ النصرہ" کے مقابلے میں "داعش" گروہ کی حمایت کررہا ہے اور یمن میں القاعدہ کے ایک اہم رکن "مامون حاتم" نے بھی بارہا دھشتگرد گروہ "داعش" کے حوالے سے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
24 مارچ 2014 - 19:30
News ID: 514791
یمن میں القاعدہ کے ناگہانی طور پر سرگرم ہونے کا شام کی جنگ سے گہرا تعلق ہے۔