ابنا: اوباما کا یہ بیان جمعہ کو لندن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یوکرین کے بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔لندن میں تعینات امریکی سفیر کی رہائش گاہ پر جمعے کو ہونے والی ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین کے مسئلے پر روس اور مغرب کے درمیان خلیج بدستور برقرار ہے، اور فریقین کے درمیان اس سلسلے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔روسی حکام اپنے موقف پر قائم ہیں اور واضح کرچکے ہیں کہ یوکرین میں روس نواز حکومت کے خلاف یورپ نواز حزب اختلاف کی بغاوت کے بعد کریمیا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔امریکی موقف کے برعکس صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کا ملک کریمیا کے عوام کی خواہشات کا احترام کرے گا۔دونوں وزرائے خارجہ نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرنے کے بجائے صحافیوں سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کی جس سے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان یوکرین کے بحران پر موجود اختلافات کا اظہار ہوتا ہے۔امریکہ اور روس کے عہدیداروں کے درمیان یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اتوار کو کریمیا میں روس کے ساتھ الحاق کے سوال پر ریفرنڈم ہونے والا ہے، جس کے باعث یہ علاقہ یوکرین سے الگ ہو کر روس میں شامل ہو سکتا ہے۔قوی امکان ہے کہ اتوار کو ہونے والے اس ریفرنڈم میں کریمیا کے عوام کی اکثریت روس سے الحاق کی منظوری دے دی گی۔امریکہ، اس ریفرنڈم کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے اور اس نے کہا ہے واشنگنٹن اس ریفرنڈم کو تسلیم نہیں کرے گا۔امریکہ نے روس پر یوکرین کی تقسیم کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔......./169
14 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 513992
امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انھیں اب بھی کریمیا کے بحران کے سفارتی حل کی امید ہے۔